مقرر ہوئی۔ مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے لئے تین سو جز تک پہنچ گئی ہے جسکے مصارف پر نظر کرکے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب 3سو روپیہ رکھی جائے۔ مگر بباعث پست ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ کہ گویا کچھ بھی نہیں ایک دوامی قیمت قرار پاوے۔ اور لوگوں کو ان کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دیکر پریشان خاطر نہ کیا جائے۔ لیکن خریداروں کو یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قدر اجزا کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزا زائد ازحق واجب ان کو پہنچیں گی وہ محض للہ فی اللہ ہوں گی اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا کہ جو خالصاً للہ اس کام کے انجام کے لئے مدد کریں گے۔ اور واضح رہے کہ اب یہ کام صرف ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا کہ جو مجرد خریدار ہونے کی وجہ سے ایک عارضی جوش رکھتے ہیں بلکہ اس وقت کئی ایک ایسے عالی ہمتوں کی توجہات کی حاجت ہے کہ جنکے دلوں میں ایمانی غیوری کے باعث سے حقیقی اور واقعی جوش ہے اور جن کا بے بہا ایمان صرف خرید و فروخت کے تنگ ظرف میں سمانہیں سکتا بلکہ اپنے مالوں کے عوض میں بہشت جاودانی خریدنا چاہتے ہیں و ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔ بالآخر ہم اس مضمون کو اس دعا پر ختم کرتے ہیں۔ کہ اے خداوند کریم تو اپنے خالص بندوں کو اس طرف کامل توجہ بخش۔ اے رحمان و رحیم تو آپ اُن کو یاد دلا۔ اے قادرِ توانا تو ان کے دلوں میں آپ الہامؔ کر۔ آمین ثم آمین۔ ونتوکّل علّی ربّنا ربّ السموات والارض ربّ العالمین۔ اعلام اب کی دفعہ ان صاحبوں کے نام جنہوں نے کتاب کو خرید فرما کر قیمت پیشگی بھیجی یا محض للہ اعانت کی بوجہ عدم گنجائش نہیں لکھے گئے۔ اور بعض صاحبوں کی یہ بھی رائے ہے کہ لکھنا کچھ ضرورت نہیں۔ بہرحال حصہ چہارم میں جو کچھ اکثر صاحبوں کی نظر میں قرین مصلحت ہوگا اس پر عمل کیا جائے۔ خاکسار میرزا غلام احمدؐ عُذر۔ اب کی دفعہ کہ جو حصہ سوم کے نکلنے میں قریب دو۲ برس کے توقف ہوگئی غالباً اس توقف سے اکثر خریدار اور ناظرین بہت ہی حیران ہوں گے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ تمام توقف مہتمم صاحب سفیرؔ ہند کی بعض مجبوریوں سے جنکے مطبع میں کتاب چھپتی ہے ظہور میں آئی ہے۔ خاکسار غلام احمدؐ عفی اللہ عنہ