یا اللّٰہ * ​ مسلمانوں کی حالت اور اسلام کی غربت اور نیز بعض ضروری امور سے اطلاع ​ آج کل غربت اسلامؔ کی علامتیں اور دین متین محمدی پر مصیبتیں ایسی ظاہر ہورہی ہیں کہ جہاں تک زمانہ بعثت حضرتِ نبوی ؐکے بعد میں ہم دیکھتے ہیں کسی قرن میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ اس سے زیادہ تر اور کیا مصیبت ہوگی کہ مسلمان لوگ دینی غمخواری میں بغایت درجہ سست اور مخالف لوگ اپنے اعتقادوں کی ترویج اور اشاعت میں چاروں طرف سے کمربستہ اور چست نظر آتے ہیں۔ جس سے دن بدن ارتداد اور بدعقیدگی کا دروازہ کھلتا جاتا ہے۔ اور لوگ فوج در فوج مرتد ہوکر ناپاک عقائد اختیار کرتے جاتے ہیں۔ کس قدر افسوس کا ​ مقام ہے کہ ہمارے مخالف جن کے عقائد فاسدہ بدیہی البطلان ہیں۔ دن رات اپنے اپنے دین کی حمایت میں سرگرم ہیں بحدیکہ یورپ اور امریکہ میں عیسائی دین کے پھیلانے کے لئے بیوہ عورتیں بھی چندہ دیتی ہیں۔ اور اکثر لوگ مرتے وقت وصیت کرجاتے ہیں کہ اس قدر ترکہ ہمارا خالص مسیحی مذہب کے رواج دینے میں خرچ ہو۔ مگر مسلمانوں کا حال کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ ان کی غفلت اس حد تک پہنچ گئی ہے۔ کہ نہ وہ آپ دین کی کچھ غمخواری کرتے ہیں اور نہ کسی غمخوار کو نیک ظنی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ خیال کرنا چاہئیے کہ غمخوارئدینی کا کیسا موقعہ تھا۔ اور خدمت گزاری کا کیا ضروری محل تھا کہ کتاب براہین احمدیہ کہ جس میں تین سو مضبوط دلیل سے حقیت اسلام ثابت کی گئی ہے اور ہرایک مخالف کے عقائد باطلہ کا ایسا استیصال کیا گیا ہے کہ گویا اس مذہب کو ذبح کیا گیا کہ پھر زندہ نہیں ہوگا۔ اس کتاب کے بارے میں بجز چند عالی ہمت مسلمانوں کے جن کی توجہ سے دو حصے اور کچھ تیسرا حصہ چھپ گیا۔ جو کچھ اور لوگوں نے اعانت کی وہ ایسی ہے کہ اگر بجائے تصریح کے صرف اسی پر قناعت کریں کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن تو مناسب ہے۔ ایھا الاخوان المؤمنون۔ مالکم لا تتوجھون۔ شوقناکم فلم تشتاقوا۔ ونبھناکم فلم تتنبھوا ۔ اسمعوا عباداللّٰہ اسمعوا۔ انصروا توجروا۔ وفی الانصار تبعثوا۔ وفی الدارین تُرحموا۔ وفی مقعد صدق تقعدوا۔ رحمنا اللّٰہ وایاکم ھو مولانا نعم المولی ونعم النصیر۔ اور اگر کوئی اب بھی متوجہ نہ ہو تو خیر ہم بھی ارحم الراحمین سے کہتے ہیں اور اس کے پاک وعدے ہم غریبوں کو تسلی بخش ہیں۔ اور اس جگہ یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے کہ پہلے یہ کتاب صرف تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جز تک بڑھا دی گئی اور دس3 روپیہ عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس 3 روپے دوسری قوموں اور خواص کے لئے