نظر نہیں آتا کہ جہاں بذریعہ انجیل کے اشاعت توحید کی ہوئی ہو۔ بلکہ انجیل کے ماننے والے موحد کو ناجی ہی نہیں سمجھتے اور پادری لوگ اہل توحید کو ایک اندھیری آگ میں بھیج رہے ہیں کہ جہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا اور بقول ان کے اس کالی آگ سے وہی شخص بچے گا۔ جو خدا پر موت اور مصیبت اور بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ اور تجسم اور حلول ہمیشہ کے لئے روا رکھتا ہو۔ ورنہ کوئی صورت بچنے کی نہیں۔ گویا وہ فرضی بہشت یورپ کی دو بزرگ قوموں انگریزوں اور روسیوں کو نصفا نصف تقسیم کرکے دیا جائے گا اور باقی سب موحد اس قصور سے جو خدا کو ہر ایک طرح کے نقصان سے جو اس کے کمال تام کے منافی ہے پاک سمجھتے تھے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ غرض ہماری اس تحریر سے یہ ہے کہ آج صفحہ ¿ دنیامیں وہ شے کہ جس کا