یاوہ دنیا کس پردہ زمین میں بستی ہے کہ جہاں رگ اور یجر اور شام اور اتھرون نے توحید الٰہی کا نقارہ بجا رکھا ہے۔ جو کچھ وید کے ذریعہ سے ہندوستان میں پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ تو یہی آتش پرستی اور شمس پرستی اور بشن پرستی وغیرہ انواع و اقسام کی مخلوق پرستیاں ہیں کہ جن کے لکھنے سے بھی کراہت آتی ہے۔ ہندوستان کے اس سرے سے اس سرے تک نظر اٹھا کر دیکھو۔ جتنے ہندو ہیں سب مخلوق پرستی میں ڈوبے ہوئے نظر آویں گے کوئی مہادیوجی کا پوجاری اور کوئی کرشن جی کا بھجن گانے والا اور کوئی مورتوں کے آگے ہاتھ جوڑنے والا۔ ایسا ہی انجیل کا حال ہے۔ کوئی ملک