اے عدو اللہ تو مجھ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے بخدا مجھے اسی وقت ۲۹؍ ستمبر ۱۸۹۴ ء کو تیری نسبت الہام
ہوا ہے ان شانئک ہوالابتراور ہم نے اس طرح پر آتھم کا رجوع بحق ہونا بے ثبوت نہیں کہا۔ کیا تو سوچتا نہیں کہ اگر وہ سچا ہے تو کیوں قسم نہیں کھاتا۔ اگرؔ یہی سچ ہے تو وہ سچی قسم کھانے سے
کس پہاڑ کے نیچے آکر دب جائے گا اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ آتھم صاحب کا صرف بحیثیت مدعا علیہ انکار کرتے رہنا کچھ بھی چیز نہیں جھوٹ بولنا نصاریٰ کی سرشت میں داخل ہے اگر بندہ
پرست لوگ جھوٹ نہ بولیں تو اور کون بولے مگر ہمارا تو یہ مطلب اور مدعا ہے کہ بحیثیت ایک گواہ کے کھڑا ہوکر مجمع عام میں اس مضمون کی قسم کھا جائیں جس کی ہم بار بار تعلیم کرتے ہیں مگر
کیا اس نے اب تک قسم کھائی ہرگز نہیں اور تعجب کہ ہم نے لکھا تھا کہ جو ولد الحلال ہے اور درحقیقت عیسائی مذہب کو ہی غالب سمجھتا ہے تو چاہیئے کہ ہم سے دو ہزار روپیہ لے اور آتھم صاحب
سے ہمارے منشاء کے موافق قسم دلاوے پھر جو کچھ چاہے ہمیں کہتا رہے ورنہ یوں ہی اسلامی بحث پر مخالفانہ حملہ کرنا اور زبان سے مسلمان کہلانا کسی ولد الحلال کا کام نہیں مگرمیاں سعد اللہ
صاحب نے آج تک آتھم صاحب کو قسم کھانے پر مستعد نہ کیا مگر عیسائیوں کو غالب سمجھتا رہا اور اپنے پر دانستہ وہ لقب لے لیا جس کو کوئی نیک طینت لے نہیں سکتا اور پھر یہ نادان کہتا ہے کہ
اگر مرنا ہی عذاب کی نشانی کی ہے تو قادیانی بھی ضرور ایک دن اس عذاب میں مبتلا ہوگا اے احمق تیری کیوں عقل ماری گئی کیا تو قرآن نہیں پڑھتا۔ یوں تو انبیاء بھی فوت ہو گئے بلکہ بعض شہید
ہوئے اور ان کے دشمن فرعون اور ابوجہل وغیرہ بھی مر گئے یا مارے گئے لیکن وہ موت جو مقابلہ کے وقت اہل حق کی دعا سے یا اہل حق کے ایذا سے یا اہل حق کی پیشگوئی سے اشقیا پروارد ہوتی
ہے وہ عذاب کی موت کہلاتی ہے کیونکہ جہنم تک پہنچاتی ہے مگر اہل حق اگر شہید بھی ہو جائیں تو وہ خدا کے فضل سے بہشت میں جاتے ہیں۔
(۱۲) بارواں اعتراض۔اسی ہندو زادہ کا یہ ہے
کہ جب کوئی عمل نہ چلا تو ڈھکوسلا بنا لیا کہ آتھم نے رجوع بحق کیا ہے الجواب ہاں اے ہندو زادہ اب ثابت ہوگیا کہ