اگر آتھم قسم کھا کر پھر اندر ہی اندر رجوع کر لے تو چاہیئے کہ عذاب ٹل جائے تو اس صورت میں ایک شریر انسان کے لئے بڑی گنجائش ہے اور ربانی پیشگوئیوں کا بالکل اعتبار اٹھ جائے گا الجواب قسم کھانے کے بعد خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہؔ فیصلہ قطعی کرے سو قسم کے بعد ایسے مکار کا پوشیدہ رجوع ہرگز قبول نہیں ہوگا کیونکہ اس میں ایک دنیا کی تباہی ہے اور قسم فیصلہ کے لئے ہے اور جب فیصلہ نہ ہوا اور کوئی مکار پوشیدہ رجوع کر کے حق پر پردہ ڈال سکا تو دنیا میں گمراہی پھیل جائے گی اس لئے قسم کے بعد خداتعالیٰ کا عزمًا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ حق کو باطل سے علیحدہ کر دے تا امر مشتبہ کا فیصلہ ہو جائے۔ (۸) آٹھواں اعتراض۔ یہ ہے کہ اگر صداقت کا صرف اقبال یا اقرار باعث تاخیر موت ہے تو ہم اہل اسلام کو کبھی موت نہیں آنی چاہیئے کیونکہ صداقت کے پیرو ہیں۔ جبکہ دشمن خدا ذرا سے منافقانہ رجوع کے باعث جو وہ بھی پوشیدہ ہے موت سے بچ جائے تو ہم جو علٰی ر ؤس الاشہاد رجوع کئے بیٹھے ہیں۔ بے شک حیات جاودانی کے مستحق ہیں الجواب عزیز من جو لوگ سچے دل سے لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کے قائل ہیں اور پھر بعد اس کے ایسے کام نہیں کرتے جو اس کلمہ کے مخالف ہیں بلکہ توحید کو اپنے دل پر وارد کر کے رسالت محمدیہ کے جھنڈے کے نیچے ایسی استقامت سے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کوئی ہولناک آواز بندوق یا توپ کی ان کو اس جگہ سے جنبش نہیں دے سکتی اور نہ تیز تلواروں کی چمکیں ان کی آنکھوں کو خیرہ کرسکتی ہیں اور نہ وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی ہوکر اس جھنڈے سے باہر آسکتے ہیں بیشک وہ لوگ حیات جاودانی پائیں گے کس خبیث نے کہا کہ نہیں پائیں گے اور وہ دائمی زندگی کے ضرور ہی وارث ہوں گے کون ملعون کہتا ہے کہ نہیں وارث ہوں گے لیکن کافر یا فاسق کا خوف کے دنوں میں کچھ مدت تک عذاب سے بچ جانا یہ خدا رحیم کی طرف سے ایک مہلت دینا ہے تا شاید وہ ایمان لاوے یا اس پر حجت پوری ہو جائے اور جب اللہ تعالیٰ ایک کافر کو اپنے غضب کی آگ سے ہلاک کرنا چاہے تو