صرف کافر بلکہ اکفر کہا گیا۔ ایسا ہی ممکن ہے کہ پہلے بھی کسی مہینہ میں چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے ہو گئے ہوں مگر
یہ کبھی نہیں ہوا اور ہرگز نہیں ہوا کہ بجز ہمارے اس زمانہ کے دنیا کی ابتداء سے آج تک کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں ایسے طور سے اکٹھے ہوگئے ہوں کہ اس وقت کوئی
مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت بھی موجود ہو۔ ایسا ہی اگرچہ پہلے بھی نصاریٰ سے مباحثات مذہبی ہوتے رہے ہیں لیکن جو نصاریٰ نے اب شوخیاں دکھلائیں اور تمام ملک میں شیطانی آوازیں سنائیں
اور گدھوں پر سوار ہوئے اور بہروپ بنائے ایسا استہزا ان کی طرف سے کبھی ظہور میں نہیں آیا اور نہ اس استہزا کا بدل جو خداتعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والا ہے جو ربّانی آواز ہے کبھی ایسا
ظاہر ہوا جیسا کہ بعد اس کے ظاہر ہوگا۔ سننے والے یاد رکھیں۔ ایسا ہی اگرچہ بعض مسلمان جو منافق طبع ہیں پادریوں کے ساتھ اس سے پہلے بھی مداہنہ کے ساتھ پیش آتے رہے ہیں مگر جو اب
مولویوں اور ان کے ناقص العقل چیلوں نے ان پادری دجالوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملائے اور ان کو فتح یاب قرار دیا اور ان کی خوشی کے ساتھ خوشی منائی اور شوخی اور چالاکی سے صدہا اشتہار
لکھے اور اہل حق پر لعنتیں بھیجیں اور ان لعنتوں سے نصاریٰ کو خوش کیا اور نصاریٰ کو غالب قرارؔ دیا اس کی نظیر تیرہ سو برس میں کسی صدی میں نہیں پائی جاتی۔ پس یہ اسی پیشگوئی کا ظہور
ہے کہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ ستر ہزار مسلمان کہلانے والے دجال کے ساتھ مل جائیں گے۔ اب علمائے مکفرین بتلا دیں کہ یہ باتیں پوری ہو گئیں یا نہیں۔ بلکہ یہ دو علامتیں یعنی مہدی ہونے کے
مدعی کو بڑے زور و شور سے کافر اور دجال کہنا اور نصاریٰ کی تائید کرنا اور ان کو فتحیاب قرار دینا اپنے ہاتھ سے مولویوں نے ایسے طور سے پورے کیں جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں پائی
جاتی۔ نادانی سے پہلے باہم مشورہ کر کے سوچ نہ لیا کہ اس طور سے تو ہم دو نشانیوں کا آپ ہی ثبوت دے دیں گے جس شدّ و مَد سے اس عاجز کی تکفیر کی گئی ہے اگر پہلے بھی کسی مہدی ہونے
کے مدعی کی اس زور و شور سے تکفیر ہوئی ہے اور یہ لعن و طعن کی بارش اور کافر اور دجال کہنا اور دین کا بیخ کن قرار دینا اور تمام ملک کے علماء کا اس پر اتفاق کرنا اور تمام ممالک میں اس کو
شہرت دینا پہلے بھی وقوع میں آیا ہے تو اس کی نظیر پیش کریں جو طابق النعل بالنعل کا مصداق ہو ورنہ مہدی موعود کی ایک خاص نشانی انہوں نے اپنے ہاتھ سے قائم کر دی اور اگر پہلے بھی ایسا
اتفاق انہوں نے نصاریٰ سے کیا ہے اور ان کو غالب قرار دیا ہے تو اس کی بھی نظیر بتلاویں۔ اور اگر پہلے بھی کسی ایسے شخص کے