عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ قدیم ہے اور گذشہ زمانہ کی طرف خواہ کیسے ہی اوپر سے اوپر چڑھتے جائیں اس خدا کے وجود کا
کہیں ابتدا نہیں اور قدیم سے وہ خالق اور ربّ العالمین بھی ہے لیکن وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ وہ ہمیشہ سے اور غیر متناہی زمانوں سے اپنے پیارے بیٹوں کو لوگوں کے لئے سولی پر چڑھاتا رہا
ہے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ تدبیر ابھی اس کو کچھ تھوڑے عرصہ سے ہی سوجھی ہے اور ابھی بڈھے باپ کو یہ خیال آیا ہے کہ بیٹے کو سولی دلا کر دوسروں کو عذاب سے بچاوے یہ تو ظاہر ہے کہ
اس بات کے ماننے سے کہ خدا قدیم اور ابد الآباد سے چلا آتا ہے۔ یہ دوسری بات بھی ساتھ ہی ماننی پڑتی ہے کہ اس کی مخلوقات بھی بحیثیت قدامت نوعی ہمیشہ سے ہی چلی آئی ہے اورؔ صفات قدیمہ
کے تجلیات قدیمہ کی وجہ سے کبھی ایک عالم ممکن عدم میں مختفی ہوتا چلا آیا ہے اور کبھی دوسرا عالم بجائے اس کے ظاہر ہوتا رہا ہے۔ اور اس کا شمار کوئی بھی نہیں کرسکتا کہ کس قدر عالموں کو
خدا نے اس دنیا سے اٹھا کر دوسرے عالم بجائے اس کے قائم کئے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ فرما کر کہ ہم نے آدم سے پہلے جان کو پیدا کیا تھا۔ اسی قدامت نوع عالم کی طرف اشارہ
فرمایا ہے۔ لیکن عیسائیوں نے باجود بدیہی ثبوت اس بات کے کہ قدامت نوع عالم ضروری ہے پھر اب تک کوئی ایسی فہرست پیش نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ ان غیر محدود عالموں میں جو ایک
دوسرے سے بالکل بے تعلق تھے کتنی مرتبہ خدا کا فرزند سولی پر کھینچا گیا کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ بموجب اصول عیسائی مذہب کے کوئی شخص بجز خدا کے فرزند کے گناہ سے خالی نہیں۔ پس
اس صورت میں تو یہ سوال ضروری ہے کہ وہ مخلوق جو ہمارے