اپنے آبائی شہر سے ہجرت کے طور پر نکلے اور اس آفتاب صداقت نے مدینہ کی طرف رجوع کیا دوسرے یہ کہ اس آفتاب کا مدینہ منورہ پر طلوع کرنا مکّیوں کے لئے غروب کے حکم میں ہوگیا۔ سو طلوع بھی متحقق ہوگیا اور غروب بھی۔ جیسا کہ امریکہ میں آفتاب کا طلوع کرنا ہمارے لئےؔ غروب کے حکم میں ہے پس جب وہ آفتاب مکہ سے چھپ گیا اور وہ عاشق الٰہی ان کوچوں سے نکل گیا تو پھر مکہ میں کیا تھا ایک اندھیری رات تھی نہ وہ انوار رہے نہ وہ برکات رہے۔ پہلے تو مکہ کو ملائک کی صفوف نے گھیرا ہوا تھا اور پھر شیاطین کی جماعتوں نے گھیر لیا نور جاتا رہا اور ظلمت آگئی۔ اسی کی طرف اشارہ تھا کہ۱؂ یعنی خدا ایسا نہیں کہ مکہ والوں پر عذاب نازل کرے اور تو ان میں ہو۔ کیونکہ وہ آفتاب تھا اور یہ غیر ممکن ہے کہ آفتاب کے ہوتے عذاب کی ظلمت نازل ہو۔ غرض جب اس آفتاب نے مدینہ میں طلوع کیا تو مدینہ والوں کے لئے دن چڑھ گیا اور مکہ میں علامات غروب پیدا ہوئے اور وہ دو تغیر عظیم ظہور میں آگئے جن میں دن محدود ہوتا ہے۔ لیکن جب مؤکد اور مکرّر طور پر کسی دن یا تاریخ کا وعدہ ہو جائے تو اس سے انسانی دن اور تاریخیں قطعاً اور یقیناً مراد ہوتی ہیں۔ ورنہ کبھی ابتلا کے طور پر ربانی اصطلاحات درمیان میں آجاتی ہیں۔ مگر باایں ہمہ نفس پیشگوئی میں فرق نہیں آتا۔ پیشگوئی کے بارے میں یہ کامل تحقیق ہے جس پر تمام انبیاء اور اولیاء کا اتفاق ہے۔ پھر ان لوگوں کے ایمان کا کیا حال ہے جو جلد زبان کو کھولتے ہیں اور حق کے کھلنے تک انتظار نہیں کرتے۔ لعنتوں کی قسمیں جن سے میاں عبدالحق غزنوی بے خبر ہیں اور ان پر صاف پڑ رہی ہیں (۱)پہلی *** یہ کہ عیسائیوں کے حامی بنے اور ایسی بحث میں جو اللہ اور رسول کی سچائی ثابت کرنے کے لئے تھی عیسائیوں کی مدد کی اور ان کے غالب ہونے کا اقرار کیا۔ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یہ پادری ہی دجال ہیں۔ پھر جن لوگوں نے دجال کی ہاں کے ساتھ ہاں ملا دی۔ یہ وہی