نہ دیا کہ اس نے ترک کر دیا مگر بات تو ظاہر ہے کہ خدائی کا دعویٰ کیا۔ تکبّر کیا ترک کیاگیا ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے آخر وقت میں مخیر کیا کہ اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو تو میری طرف آجاؤ۔ آپ نے عرض کیا کہ اے میرے رب اب میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آؤں اور آخری کلمہ آپ کا جس پر آپ کی جان مطہر رخصت ہوگئی۔ یہی تھا کہ بالرفیق الاعلٰی یعنی اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا۔ میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ اب دونوں کلموں کو وزن کرو۔ آپ کے خدا صاحب نے نہ فقط ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعا کی بلکہ صلیب پر بھی چلّا چلّا کر روئے کہ مجھے موت سے بچالے مگر کون سنتا تھا۔ لیکن ہمارے مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے لئے ہرگز دعا نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ مختار کیا کہ اگر زندگیؔ کی خواہش ہے تو یہی ہوگا۔ مگر آپ نے فرمایا کہ اب میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتا کیا یہ خدا ہے جس پر بھروسہ ہے ڈوب جاؤ!!! اور آپ کا یہ زعم کہ قرآن اپنے دین کو چھپا لینے کے لئے حکم دیتا ہے محض بہتان اور افترا ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔ قراٰن تو ان پر *** بھیجتا ہے*۔ جو دین کی گواہی کو عمداً چھپاتے ہیں اور ان پر *** بھیجتا ہے جو جھوٹ بولتے ہیں شاید آپ نے قرآن کی اس آیت سے بوجہ نافہمی کے دھوکا کھایا ہوگا جو سورۃ النحل میں مذکور ہے۔ اور وہ یہ ہے۱؂۔ یعنی کافر عذاب میں * نوٹ: لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ۔ قرآن شریف میں ہے یا انجیل میں جواب تو دو۔ منہ