باتوں میں دورنگی پائی جاتی تھی۔
اور ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس نبوی کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ اس جگہ ثابت ہوتا ہے
اور وہ یہ کہ جس توریہ کو آپ کا یسوع شیر مادر کی طرح تمام عمر استعمال کرتا رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری
صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے یسوع صاحب اس قدر التزام سچائی کا نہ کر سکے جو شخص خدائی کا دعویٰ کرے وہ تو شیر ببر کی طرح دنیا میں آنا
چاہئے تھا نہ کہ ساری عمر توریہ اختیار کرکے اور تمام باتیں کذب کے ہمرنگ کہہ کر یہ ثابت کر دیوے کہ وہ ان افراد کاملہ میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لاپرواہ ہوکر دشمنوں کے مقابل پر اپنے
تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ اور کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے مجھے تو ان باتوں کو یاد کرکے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اس ضعف
حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلینؐجنگ احد ۱ میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ
رہے تھے میں محمدؐ ہوں۔ میںؔ نبی اللّٰہ ہوں۔ میں ابن عَبْد المطّلِب ہوں اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں۔ کہ آپ کا یسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ
کہنا کہ
۱ سہو ہے یہ واقعہ غزوۂ حنین کا ہے۔ شمس