سے نکال کر دکھلا دے تو اس قدر انعام اس کو دیا جائے گا مگر پادری صاحبان اب تک ایسے چپ رہے کہ گویا ان میں جان نہیں
اب مدت کے بعد فتح مسیح صاحب کفن میں سے بولے شاید بوجہ امتداد زمانہ ہمارا وہ اشتہار ان کو یاد نہیں رہا۔ پادری صاحب آپ خس و خاشاک کو سونا بنانا چاہتے ہیں اور سونے کی کان سے منہ
مروڑ کر اِدھر اُدھر بھاگتے ہیں اگر یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔ قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۔۱ یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی
پلیدی سے پرہیز کرو۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔۲ الجزو نمبر ۴۔
یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو للہ ادا کرو اگرچہؔ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر
پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھاویں۔
اب اے ناخدا ترس ذرا انجیل کو کھول اور ہمیں بتلا کہ راست گوئی کے لئے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہے اور اگر
ایسی تاکید ہوتی تو پطرس اول درجہ کا حواری کیوں جھوٹ بولتا اور کیوں جھوٹی قسم کھا کر اور حضرت مسیح پر *** بھیج کر صاف منکر ہو جاتا کہ میں اس کو نہیں جانتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم محض راست گوئی کی وجہ سے شہید ہوتے رہے اور الٰہی گواہی کو انہوں نے ہرگز مخفی نہ رکھا گو ان کے خون سے زمین سرخ ہوگئی مگر انجیل سے ثابت ہے کہ
خود آپ کے یسوع صاحب اس شہادت* کو مخفی رکھتے رہے ہیں جس کا ظاہر