بھی کوئی برائی نہیں۔ اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔ کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔ اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ اس کے سبب سے مرد اس تعلق کے حقوق کی بجا آوری پر قادر نہ ہوسکے تو ایسی حالت میں اگر وہ اصول تقویٰ کے لحاظ سے کوئی کاروائی کرے تو عند العقل کچھ جائے اعتراض نہیں۔ پادریؔ صاحب آپ کا یہ سوال کہ اگر آج ایسا شخص جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں ہوتا تو گورنمنٹ اس سے کیا کرتی۔ آپ کو واضح ہو۔ کہ اگر وہ سیّد الکونین اس گورنمنٹ کے زمانہ میں ہوتے۔ تو یہ سعادت مند گورنمنٹ ان کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتی جیسا کہ قیصر روم صرف تصویر دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا آپ کی یہ نالیاقتی اور ناسعادتی ہے کہ اس گورنمنٹ پر ایسی بدظنی رکھتے ہیں کہ گویا وہ خدا کے مقدسوں کی دشمن ہے یہ گورنمنٹ اس زمانہ میں ادنیٰ ادنیٰ امیر مسلمانوں کی عزت کرتی ہے۔ دیکھو نصر اللہ خاں جو اس جناب کے غلاموں جیسا بھی درجہ نہیں رکھتا ہماری قصیرۂ ہند دام اقبالہانے کیسی اس کی عزت کی ہے پھر وہ عالی جناب مقدس ذاتؐ جو اس دنیا میں بھی وہ مرتبہ رکھتا تھا کہ بادشاہ اس کے قدموں پر گرتے تھے اگر وہ اس وقت میں ہوتا تو بے شک یہ گورنمنٹ اس کی جناب سے خادمانہ اور متواضعانہ طور پر پیش آتی۔ الٰہی گورنمنٹ کے آگے انسانی گورنمنٹوں کو بجز عجز و نیاز کے کچھ بن نہیں پڑتا۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ قیصر روم جو آنجنابؐ کے وقت میں عیسائی بادشاہ