ان میں امکان غلطی نہیں۔ تو ہمیں بواپسی ڈاک اطلاع دیں تا انجیل اور قانون کا تھوڑا سا مقابلہ کر کے آپؔ کی کچھ خدمت کی
جائے۔ غرض گورنمنٹ نے اب تک کوئی اشتہار نہیں دیا کہ ہمارے قوانین بھی توریت اور انجیل کی طرح خطا اور غلطی سے خالی ہیں اگر آپ کو کوئی اشتہار پہنچا ہو تو اس کی ایک نقل ہمیں بھی بھیج
دیں پھر اگر گورنمنٹ کے قوانین خدا کی کتابوں کی طرح خطا سے خالی نہیں تو ان کا ذکر کرنا یا تو حمق کی وجہ سے ہے یا تعصب کے سبب سے مگر آپ معذور ہیں اگر گورنمنٹ کو اپنے قانون پر
اعتماد تھا تو کیوں ان ڈاکٹروں کو سزا نہیں دی جنہوں نے حال میں یورپ میں بڑی تحقیقات سے نو۹ برس بلکہ سات برس کو بھی بعض عورتوں کے بلوغ کا زمانہ قرار دے دیا ہے اور نو ۹برس کی
عمر کے متعلق آپ اعتراض کر کے پھر توریت یا انجیل کا کوئی حوالہ نہ دے سکے صرف گورنمنٹ کے قانون کا ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا توریت اور انجیل پر ایمان نہیں رہا۔ ورنہ نو برس
کی حرمت یا تو توریت سے ثابت کرتے یا انجیل سے ثابت کرنی چاہیئے تھی پادری صاحب یہی تو دجل ہے۔ کہ الہامی کتب کے مسائل میں آپ نے گورنمنٹ کے قانون کو پیش کر دیا۔ اگر آپ کے نزدیک
گورنمنٹ کے قانون کی تمام باتیں خطا سے خالی ہیں اور الہامی کتابوں کی طرح بلکہ ان سے افضل ہیں تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جن نبیوںؑ نے خلاف قانون انگریزی کئی لاکھ شیر خوار بچے
قتلکئے اگر وہ اس وقت ہوتے تو گورنمنٹ ان سے کیا معاملہ کرتی اگر وہ لوگ گورنمنٹ کے سامنے چالان ہوکر آتے جنہوں نے بیگانے کھیتوں کے خوشے توڑ کر کھا لئے تھے تو گورنمنٹ اُن کو اور
ان کے اجازت دینے والے کو کیا کیا سزا دیتی پھر میں پوچھتا ہوں کہ وہ شخص جو انجیر کا پھل کھانے دوڑا تھا اور انجیل سے ثابت ہے کہ وہ انجیر کا درخت اس کی