مشفقی پادری صاحب! بعد ماوجب اس وقت مجھے بہت کم فرصت ہے۔ مگر میں نے جب آپ کا وہ خط دیکھا۔ جو آپ نے اخویم
مولوی عبد الکریم صاحب کے نام بھیجا تھا۔ مناسب سمجھا کہ اپنے اس رسالہ کی جو زیر تالیف ہے خود ہی آپ کو بشارت دوں تاآپ کو زیادہ تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہ رہے۔ یاد رکھیں کہ رسالہ
ایسا ہوگا کہ آپ بہت ہی خوش ہو جائیں گے۔ آپ کی ان مہربانیوں کی وجہ سے جو اب کی دفعہ آپ کے خط میں بہت ہی پائی جاتی ہیں۔ میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ اس رسالہ کی وجہ اشاعت
صرف آپ ہی کی درخواست قرار دی جاوے کیونکہ جس مضمون کے لکھنے کیلئے اب ہم طیار ہیں اگر آپ کا یہ خط نہ آیا ہوتا جس میں جناب مقدس نبوی اور حضرت عائشہ صدیقہ اور سودہ کی نسبت
آپ ؔ نے بدزبانی کی ہے۔ تو شائد وہ مضمون دیر کے بعد نکلتا یہ آپ کی بڑی مہربانی ہوئی کہ آپ ہی محرک ہوگئے۔ امید ہے کہ دوسرے پادری صاحبان آپ پر بہت ہی خوش ہوں گے اور کچھ تعجب
نہیں کہ ہمارا رسالہ نکلنے کے بعد آپ کی کچھ ترقی بھی ہو جاوے۔ پادری صاحب ہمیں آپ کی حالت پر رونا آتا ہے کہ آپ زبان عربی سے تو بے نصیب تھے ہی۔ مگر وہ علوم جو دینیات سے کچھ تعلق
رکھتے ہیں۔ جیسے طبعی اور طبابت ان سے بھی آپ بے بہرہ ہی ثابت ہوئے۔ آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرکے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔ اول تو نو برس کا
ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواترہ سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔ صرف ایک راوی سے منقول ہے۔ عرب کے
لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اُمّی تھے اور دو تین برس کی