پہلے کسی صادق نبی نے بھی اس اعلیٰ شان کے کمال کا نمونہ نہیں دکھلایا کہ ایک طرف کتاب اللہ بھی آرام اور امن کے ساتھ
پوری ہو جائے۔ اور دوسری طرف تکمیل نفوس بھی ہو اور بایں ہمہ کفر کو ہریک پہلو سے شکست اور اسلام کو ہریک پہلو سے فتح ہو۔
اور پھر دوسری جگہ فرمایا کہ*
کے لئے زندہ ہوکر آجائیں
اور کہا جائے کہ دیکھو یہ تمہارا خدا۔ ان سے ذرہ مصافحہ تو کیجئے تو شرم میں غرق ہو جائیں۔ کمبخت مخلوق پرستوں نے عاجز بندوں کے مرنے کے بعد کیا کیا ان کو بنا ڈالا حیا نہیں۔ خدا تعالیٰ کا
خوف نہیں یہ بھی نہیں سوچتے کہ مسیح نے پہلے نبیوں سے بڑھ کر کیا دکھلایا۔ خدائی کی مَد میں کون سے کام کئے۔ کیا یہ کام خدائی کے تھے کہ ساری رات آنکھوں میں سے رو رو کر نکالی پھر
بھی دعا منظور نہ ہوئی۔ ایلی ایلی کہتے جان دی۔ باپ کو کچھ بھی رحم نہ آیا۔ اکثر پیشین گویاں پوری نہ ہوئیں معجزات پر تالاب نے دھبہ لگایا۔ فقیہوں نے پکڑا اور خوب پکڑا اور کچھ پیش نہ گئی۔ ایلیا
کی تاویل میں کچھ عمدہ جواب بن نہ پڑا۔ اور پیشگوئی کو اپنے ظاہر الفاظ پر پورا کرنے کے لئے ایلیا کو زندہ کر کے دکھلا نہ سکا اور لما سبقتنی کہہ کر بصد حسرت اس عالم کو چھوڑا ایسے خدا
سے تو ہندوؤں کا خدا رام چندر ہی اچھا رہا جس نے جیتے جی راون سے اپنا بدلہ لے لیا اور نہ چھوڑا جب تک اس کو ہلاک نہ کیا اور اس کے شہر کو جلا نہ دیا۔ ہاں کفارہ کا ڈھکوسلہ پیچھے سے بنایا
گیا۔ مگر دیکھنا چاہئے کہ اس سے فائدہ کیا ہوا عیسائیوں پر تو اور بھی گناہ کا بھوت سوار ہوگیا۔ کون سے بدی ہے جس سے وہ رک گئے۔ کون سی ناپاکی ہے جس میں وہ گرفتار نہ ہوئے افسوس کہ
خودکشی یوں ہی برباد گئی۔ منہ
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نہایت درجہ کا یہ جوش تھا کہ میں اپنی زندگی میں اسلام کا زمین پر پھیلنا دیکھ لوں اور یہ
بات بہت ہی ناگوار تھی کہ حق کو زمین پر قائم کرنے سے پہلے سفر آخرت پیش آوے سو خدا تعالیٰ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری دیتا