پاویں جس کے پیدا کرنے سے انسانی طاقتیں اور بشری بناوٹیں عاجز ہوں اور وہ خوبیاں دیکھیں جو دوسری زبانیں ان سے قاصر اور محروم ہوں اور وہ خواص مشاہدہ کریں جو بجز خدا تعالیٰ کے قدیم اور صحیح علم کے کسی مخلوق کا ذہن ان کا موجد نہ ہوسکے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ وہ زبان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ سو کامل اور عمیق تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ زبان عربی ہے اگرچہ بہت سے لوگوں نے ان باتوں کی تحقیقات میں اپنی عمریں گذاری ہیں اور بہت کوشش کی ہے جو اس بات کا پتہ لگاویں جو اُمّ الالسنہ کون سی زبان ہے مگر چونکہ ان کی کوششیں خط مستقیم پر نہیں تھیں اور نیز خدا تعالیٰ سے توفیق یافتہ نہ تھے اس لئے وہ کامیاب نہ ہوسکے اور یہ بھی وجہ تھی کہ عربی زبان کی طرف ان کی پوری توجہ نہ تھی بلکہ ایک بخل تھا لہٰذا وہ حقیقت شناسی سے محروم رہ گئے اب ہمیں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک کلام قرآن شریف سے اس بات کی ہدایت ہوئی کہ وہ الہامی زبان اور اُمّ الالسنہ جس کے لئے پارسیوں نے اپنی جگہ اور عبرانی والوں نے اپنی جگہ اور آریہ قوم نے اپنی جگہ دعوے کئے کہ انہیں کی وہ زبان ہے وہ عربی مبین ہے اور دوسرے تمام دعوے دار غلطی پر اور خطا پر ہیں۔ اگرچہ ہم نے اس رائے کو سرسری طور پر ظاہر نہیں کیا بلکہ اپنی جگہ پُوری تحقیقات کر لی ہے اور ہزارہا الفاظ سنسکرت وغیرہ کا مقابلہ کرکے اور ہریک لغت کے ماہروں کی کتابوں سے سن کر اور خوب عمیق نظر ڈال کر اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ زبان عربی کے سامنے سنسکرت وغیرہ زبانوں میں کچھ بھی خوبی نہیں پائی جاتی بلکہ عربی کے الفاظ کے مقابل پر ان زبانوں کے الفاظ لنگڑوں، لولوں، اندھوں، بہروں، مبروصوں، مجذوموں کے