بات کو کہتے ہوئے کہ پیشگوئی غلطؔ نکلی کیوں تم کو خدا کا خوف نہیں پکڑتا کیوں تمہارا دل کانپ نہیں جاتا۔ کیا تم انسان ہو یا بالکل مسخ ہوگئے۔ وہ آنکھیں کہاں گئیں جو حق کو دیکھتی ہیں۔ وہ دل کدھر چلے گئے جو سچائی کو فی الفور سمجھ لیتے ہیں، اس سے کوئی بے ایمانی بڑھ کر نہیں کہ جو سچی بات کو ناحق جھوٹ بنایا جاوے اور نہ اس سے کوئی بد ذاتی زیادہ بدتر ہے جو جھوٹ پر خواہ نخواہ ضد کی جائے اب کون سے دلائل باقی ہیں جو ہم تمہارے پاس بیان کریں اور ثبوت میں کونسی کسر رہ گئی ہے جو وہ کسر نکالی جاوے خدایا یہ کیسے اندھے ہیں کہ اس بات کو منہ پر لانے کے وقت کہ پیشگوئی غلط نکلی۔ پیشگوئی کی شرط کو بھول جاتے ہیں۔ یا الٰہی یہ کیسی بے ایمانی اور بدذاتی ہے جو ہمیں ناحق بار بار ستایا جاتا ہے۔ اور کوئی بھلا مانس آتھم کو جاکر نہیں پوچھتا کہ تم اس ضروری قسم سے کیوں گریز کر گئے اور کیوں عیسائی مذہب پر سیاہی مل دی اور کیوں ایسی قسم نہ کھائی جو عقلاً و انصافاًو قانوناً نہایت ضروری تھی اور تم پر واجب ہوچکی تھی۔ اے لوگو اس قدر غلو سے باز آجاؤ اور ڈرو کیونکہ وہ ہستی حق ہے جس کو تم بھولتے ہو اور وہ پاک ذات سچ ہے جس کی اس تعصب میں تمہیں کچھ بھی پرواہ نہیں۔ اس سے ڈرو کیونکہ کوئی بے ہودہ بات نہیں جس کا حساب نہیں لیا جائے گا اور مجھے اسی کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آتھم اب بھی قسم کھانا چاہے اور انہی الفاظ کے ساتھ جو میں پیش کرتا ہوں ایک مجمع میں میرے روبرو تین مرتبہ قسم کھاوے اور ہم آمین کہیں تو میں اسی وقت چار ہزار روپیہ اس کو دوں گا۔ اگر