ہی باطل ثابت ہوتی وجہ یہ کہ پیشگوئی کا مفہوم یہی چاہتا تھا کہ شرط کے پوری کرنے کی حالت میں ضرور آتھم میعاد معینہ
میں زندہ رہے۔ اب جب کہ یہ امر طے ہوگیا کہ پیشگوئی صرف موت کی ہی خبر نہیں دیتی تھی بلکہ اپنے دوسرے پہلو سے آتھم کو اس کی حیات کی بھی خوشخبری دیتی تھی اور شرط کے بجا لانے
کے وقت اس کا زندہ رہنا ایسا ہی پیشگوئی کی سچائی پر دلالت کرتا تھا جیسا کہ اس صورت میں دلالت کرتا کہ وہ بوجہ عدم پابندی شرط فوت ہو جاتا تو پھر یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ پیشگوئی کی
شرط کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور نہ خدا سے ڈرتے ہیں اور نہ اس ذلت سے جو انصاف کو چھوڑنے کی حالت میں *** کی طرح دامن گیر ہو جاتی ہے۔ صاحبو اگر پہلے نہیں سمجھا تو اب سمجھ لو
کہ یہ پیشگوئی درحقیقت دو پہلو رکھتی تھی جس کی تاثیر نہ صرف مرنا تھا بلکہ دوسرے پہلو کے لحاظ سے زندہ رہنا اور موت سے بچ جانا بھی اس کی ضروری تاثیر تھی۔ پھر اگر ہمارے مخالفوں
اور جلد بازوں کے دلوں میں انصاف ہوتا تو صرف عدم موت پر سیاپا نہ کیا جاتا بلکہ شرط کے مفہوم کو تنقیح طلب امر ٹھہراتے یعنی یہ امر کہ آیا آتھم نےؔ حق کی طرف رجوع کیا یا نہیں پھر اگر
دیکھتے کہ اس کے ان حالات سے جو اس نے پیشگوئی کے اثناء میں ظاہر کئے اور ان حالات سے جو مطالبہ قسم کے وقت اس نے دکھلائے رجوع ثابت نہیں ہوتا تو جس طرح چاہتے شور مچاتے لیکن
افسوس کہ ان ظالم بد اندیشوں نے اس طرف رخ بھی نہیں کیا ۔اے دنیا کے دانشمندو خدا کے لئے بھی کچھ عقل خرچ کرو اور ذرا سوچو کہ جس حالت میں پیشگوئی میں شرط موجود تھی اور آتھم نے نہ
صرف اپنے مضطربانہ افعال سے ثابت کیا کہ پیشگوئی کے اثنا میں عیسائیت کا استقلال اس سے الگ ہو گیا تھا۔ اور اسلامی عظمت نے ایک دیوانہ سا اس کو بنا دیا تھا بلکہ اس نے اپنی زبان سے بھی
اقرار کیا جو نور افشاں میں چھپ گیا کہ میں اثناء پیشگوئی میں ضرور ڈرتا رہا لیکن نہ اسلام سے بلکہ اس لئے کہ میرے پر