کی طرح نصوص صریحہ توریت سےؔ ان پر نہیں کھلا تھا کہ کوئی شخص اس جہان سے گذر کر پھر اس دنیا میں آباد ہونے
کے لئے نہیں آسکتا اس لئے وہ اس گرداب میں پڑے اور ان کا اس بات پر زور دینا سراسر حماقت تھا کہ سچ مچ حضرت ایلیا علیہ السلام دوبارہ آسمان پر سے مسیح موعود سے پہلے تشریف لے آئیں
گے اور ان کے پاس اس طرح دوبارہ آجانے کی کوئی نظیر بھی نہیں تھی۔ ہاں آج کل کے ظاہری نیم ملاؤں کی طرح صرف الفاظ پر زور تھا۔ اور ایک نادان کی نظر میں بظاہر یہودیوں کی حجت ایلیا کے
دوبارہ آنے کی پیشگوئی میں قوی معلوم ہوتی تھی اور حضرت عیسیٰ کی تاویل کچھ رکیک اور بودی سی پائی جاتی تھی۔ کیونکہ ظاہر نص یہودیوں کا مؤیّد تھا۔ لیکن اس سنت اللہ پر نظر ڈالنے کے بعد جو
قرآن کریم سے مفصل معلوم ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں کسی کے دوبارہ آنے اور دنیا میں دوبارہ آباد ہونے کے بارے میں یہ کتاب کریم صاف فیصلہ کرتی ہے کہ ایسا ہونا
سنت اللہ کے خلاف ہے۔
پس جبکہ دوبارہ آنا دنیا میں ممتنع ہوا تو پھر حضرت ایلیا علیہ السَّلام کا آسمان سے نازل ہونا اور یہودیوں کے دلوں کو مسیح موعود سے پہلے آکر درست کرنا بدیہی
البطلان ہوا۔ ہاں یہ مسئلہ بغیر قرآن کریم پر ایمان لانے کے سمجھ میں نہیں آتا اور اگر توریت پر ہی حصر رکھا جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسیح ہرگز نبی صادق نہیں تھا!!! ایک
مصیبت تو مسیح کے بارے میں یہی پیش آئی تھی۔ دوسرے ظالم عیسائیوں نے اپنے ہاتھوں سے مسیح کو توریت استثنا باب ۱۳ کا مصداق ٹھہرا کر سچے نبیوں کے طریق اور شان سے بکلّی بے نصیب
اور محروم کر دیا۔
اور یاد رہے کہ نظر عمیق کے بعد حضرت مسیح کی تاویل یہودیوں