نص کتاب اللہ یہودیوں کے ساتھ ہیں۔ ان کی یہ حجت ہے کہ اگر ایلیا سے کوئی اور شخص مراد ہوتا تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو
دھوکا نہ دیتا بلکہ صاف لفظوں سے کہہ دیتا کہ ایلیا تو آسمان سے دوبارہ نہیں اترے گا۔ بلکہ اس کی جگہ یحییٰ زکریا کا بیٹا پیدا ہوگا اسی کو ایلیا سمجھ لینا۔ یہ پیشگوئی عیسائی مذہب کو نہایت
اضطراب میں ڈالتی ہے۔ اگر قرآن حضرت مسیح کی نبوت کا مصدق ہوکر حضرت ابن مریم کو نبیوں میں داخل نہ کرتا تو کیا کوئی عقلمند قبول کر سکتا تھا کہ عیسیٰ بھی درحقیقت نبی ہے۔ کیونکہ کھلی
کھلی نص کتاب اللہ کی یہودیوں کے ہاتھ میں ہے جس سے حضرت مسیح کسی طرح سچے نہیں ٹھہر سکتے۔
بعض مسلمان جہالت سے کہتے ہیں کہ شاید وہ پیشگوئی محرف ہوگئی ہوگی۔ مگر ایسا
خیال کرنے والے سخت احمق ہیں۔ تحریف تو بے شک بعض مقامات بائبل میں ہوئی ہے۔ مگر جس مقام کو خود حضرت مسیح نے غیر محرف ٹھہرا دیا ہے وہ مقام بلاشبہ حضرت مسیح اور یہود کے
اتفاق سے تحریف کے الزام سے پاک ہے اور قرآن کریم اور حدیث میں اس قصہ کا کچھ ذکر ہی نہیں۔ تاہم یہ کہہ سکیں کہ یہ قصہ احادیث اور قرآن کریم کے مخالف پڑا ہے پس ہم بہرحال اس قصہ کی
تکذیب کے مجاز نہیں ہیں۔ اتنا کہنا ہمیں ضروری ہے کہ گو نص کتاب اللہ کےؔ ظاہر الفاظ یہودیوں کے عذر کے مؤیّد ہیں۔ اور اگر ظاہر پر فیصلہ کریں تو بے شک حضرت مسیح کی نبوت ثابت نہیں
ہوسکتی۔ بلکہ کذب اور افترا ثابت ہوتا ہے۔ اور کذب بھی ایسا کذب کہ جس کو ایلیا قرار دیا گیا وہ خود ایلیا ہونا منظور نہیں کرتا۔ اور مدعی سُست اور گواہ چُست کا معاملہ نظر آتا ہے۔ مگر چونکہ قرآن
کریم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کر دی ہے اس لئے ہم بہرحال حضرت مسیح کوسچا نبی کہتے اور مانتے ہیں اور انکی نبوت سے انکار کرنا