نے صفائی سے نہیں دیا۔ آخر اسی و جہ سے قسم کی ضرورت پیش آئی۔ مگر اس نے ایک جھوٹے عذر سے قسم کو بھی ٹال دیا۔
ہمارے مولویوں اور اخبار نویسوں میں اگر حق کی تائید کا کچھ مادہ ہوتا تو وہ اسی وقت دین کی تائید میں نتیجہ نکال لیتے جبکہؔ آتھم نے اپنے ڈرتے رہنے کی یہ و جہ بیان کر دی تھی کہ میرے پر تین
حملے ہوئے اور اگر اس پر تسلی نہ پکڑ سکتے تو آتھم کو قسم پر مجبور کرتے۔ کیونکہ جب آتھم اپنے قول وفعل سے خوف شدید کا قائل ہوچکا تھا تو یہ مطالبہ قانونًا و شرعًا اس سے واجب تھا، کہ کیوں
یہ یقین نہ کیا جائے کہ وہ تمام خوف پیشگوئی کی و جہ سے تھا خاص کر جب کہ وہ وجوہ خوف جو بیان کئے گئے بالکل جھوٹے اور نکمے اور بدبودار اور بناوٹی ثابت ہوئے اور یہ اسکی نہایت ہی
رعایت کی گئی تھی کہ باوجودیکہ اس کی دروغ گوئی پر قرائن قویہ قائم ہوچکے تھے اور نامعقول عذروں سے جرم بپایہ ثبوت پہنچ گیا تھا پھر بھی ہم نے اس سے قسم کا مطالبہ کرکے وعدہ کیا کہ ہم
اس کو قسم کے بد نتائج نہ پیدا ہونے پر راست باز سمجھ لیں گے اور نہ صرف یہی بلکہ چار ہزار روپیہ نقد دیں گے مگر وہ پھر بھی بھاگ گیا اور قسم نہ کھائی۔ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ اس کے
ایسے کھلے کھلے گریز پر فتح کا نقارہ بجاتے نہ کہ عیسائیوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے لیکن جب تک انسان بخل سے خالی نہ ہو تب تک حقیقت میں اندھا ہوتا ہے۔
اور عیسائیوں کی حالت پر نہایت
تعجب ہے کہ اس پیشگوئی پر جو ایسی صفائی سے اپنی شرط کے پہلو پر پوری ہوگئی انہوں نے محض شرارت سے وہ شور اور شر کیا اور وہ توہین اور گندی گالیاں دیں اور کوچوں بازاروں میں
شیطانی بہروپ دکھلائے جو اپنی ساری فطرت کے پردے کھول دیئے، حالانکہ پیشگوئی میں ایک صاف شرط موجود تھی اور قرائن قویہ کی رو سے وہ شرط پوری ہوچکی