حاشیہؔ نمبر۱ جو لوگ خدا تعالیٰ کی قدیم عادات اور سنتوں پر اطلاع رکھتے ہیں اور ربانی کتابوں کے منشا اور مغز سے واقف ہیں وہ اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ اپنی پیشگوئیوں میں ان تمام امور کی پابندی رکھتا ہے جو اس کی غیر متبدل عادتوں اور سنتوں میں داخل ہیں خواہ وہ کسی پیشگوئی میں بتصریح ذکر کی جائیں یا صرف بطور اجمال یا محض اشارہ کے طور پر پائی جائیں یا بالکل ذکر نہ کی جائیں کیونکہ جو امور سنن غیر متبدلہ میں داخل ہو چکے ہیں وہ کسی طرح بدل نہیں سکتے اور اگر فرض کریں کہ کسی پیشگوئی میں ان امور کا ذکر نہیں تاہم یہ غیر ممکن ہوگا کہ کوئی پیشگوئی بغیر ان کے ظاہر ہوسکے کیونکہ سنت اللہ میں فرق نہیں آسکتا مثلاً قرآن کریم اور دوسری الٰہی کتابوں میں معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر لوگوں پر اسی دنیا میں عذاب کے طور پر موت اور ہلاکت وارد ہوئی وہ صرف اس لئے نہیں وارد ہوئی کہ وہ لوگ حیثیت مذہبی کی وجہ سے ناحق پر تھے مثلاً بت پرست تھے یا ستارہ پرست یا آتش پرست یا کسی اور مخلوق کی پرستش کرتے تھے کیونکہ مذہبی ضلالت کا محاسبہ قیامت پر ڈالا گیا ہے اور صرف ناحق پر ہونے کا اور کافر ٹھہرانے سے اس دنیا میں کسی پر عذاب وارد نہیں ہو سکتا اس عذاب کے لئے جہنم اور دار آخرت بنایا گیا ہے بلکہ کافروں کے لئے یہ دنیا بطور بہشت کے ہے اور مومن ہی اکثر اس میں دکھ اور درد اٹھاتے ہیں الدنیا جنۃ الکافر و سجن المؤمن پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس حالت میں دنیا جنت الکافر ہے اور مشاہدہ بھی اسی پر شہادت دے رہا ہے کہ کفار ہریک دنیوی نعمت اور دولت میں سبقت لے گئے ہیں اور قرآن کریم میں جابجا اسی بات کا اظہار ہے کہ کافروں پر ہریک دنیوی نعمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو پھر بعض کافر قوموں پر عذاب کیوں نازل ہوئے اور خدا تعالیٰ نے ان کو پتھر اور آندھی اور طوفان اور وبا سے کیوں ہلاک کیا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام عذاب محض کفر کی وجہ سے نہیں ہوئے بلکہ جن پر یہ عذاب نازل ہوئے وہ تکذیب مرسل اور استہزاء اور ٹھٹھے اور ایذاء میں حد سے بڑھ گئے تھے اور خداتعالیٰ کی نظر میں ان کا فساد اور فسق اور ظلم اور آزار نہایت کو پہنچ گیا تھااور انہوں نے اپنی ہلاکت کے لئے