صدقات سے باتفاق جمیع انبیاء علیہم السلام ثابت ہے پس ان تاریخوں کا ٹلنا بوجہ اولیٰ ثابت ہوا اور اس سے انکار کرنا صرف
سفیہ اور نادان کا کام ہے نہ کسی صاحب بصیرت کا۔
اور صاحب تفسیر کبیر اپنی تفسیر کے صفحہ ۱۶۴ میں لکھتے ہیں ان ذنبہ یعنی ذنب یونس کان لان اللّٰہ تعالٰی وعدہ انزال الاھلاک بقومہ الذین
کذبوہ فظن انہ نازل لا محالۃ فلاجل ھذا الظن لم یصبر علٰی دعاءھم فکان الواجب علیھم ان یستمر علی الدعاء لجواز ان لا یھلکھم اللّٰہ بالعذاب یعنی یونس کا یہ گناہ تھا کہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ
وعدہ ملا تھا کہ اس کی قوم پر ہلاکت نازل ہوگی کیونکہ انہوں نے تکذیب کی پس یونس نے سمجھ لیا کہ یہ عذاب موت قطعی اور اٹل ہے اور ضرور نازل ہوگا اسی ؔ ظن سے وہ دعا ہدایت پر صبر نہ
کرسکا اور واجب تھا کہ دعا ہدایت کی کئے جاتا کیونکہ جائز تھا کہ خدا دعاء ہدایت قبول کر لے اور ہلاک نہ کرے۔ اب بولو شیخ جی کیسی صفائی سے ثابت ہوگیا کہ یونس نبی وعدہ اہلاک کو قطعی
سمجھتا تھا اور یہی اس کے ابتلا کا موجب ہوا کہ تاریخ موت ٹل گئی۔ اور اگر اس پر کفایت نہیں تو دیکھو امام سیوطی کی تفسیر دُر منثور سور ہ انبیاء قال اخرج ابن ابی حاتم عن ابن عباس قال لما دعا
یونس علی قومہ اوحی اللّٰہ الیہ ان العذاب یصبحھم۔۔۔۔۔ فلما رأوہ جاروا الی اللّٰہ و بکی النساء والولدان ورغت الا بل وفصلانہا وخارت البقر وعجاجیلہا ولغت الغنم و سخالہا فرحمھم اللّٰہ وصرف ذلک
العذاب عنھم وغضب یونس وقال کذبت فھو قولہ اذ ذھب مغاضبا۔ یعنی ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جبکہ یونس نے اپنی قوم پر بددعا کی سو خدا تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی
کہ صبح ہوتے ہی عذاب نازل ہوگا پس جبکہ