شرّ کا احتمال نہیں پیدا کرتے تھے اور دوسری طرف پیشگوئی کے پورے ہونے کا احتمال آتھم صاحب کی نظر میں کئی وجوہ سے قوی تھا کیونکہ وہ احمد بیگ کی موت کی پیشگوئی کا پورا ہونا مجھ سے سن چکے تھے اور اس پیشگوئی کی کیفیت ؔ میرے اشتہارات اور پرچہ نور افشاں میں پڑھ چکے تھے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ان کی نسبت پیشگوئی جس قوت اور شوکت اور پر زور دعویٰ سے بیان کی گئی وہ بھی ان کو معلوم تھا تو اب ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں مل کر ایسا دل پر قوی اثر ڈالتی ہیں جو تازہ بتازہ نمونہ بقیہ نوٹ:جو سرکشی اور بے باکی کی حالت میں ہوئی تھی وہ اطاعت اور خوف کی حالت میں قائم رہے اور اطاعت اور خوف کی حالت کے موافق کوئی پُر رحم امر صادر نہ ہو۔ منہ * حاشیہ: مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کے داماد کی نسبت ایک ہی پیشگوئی تھی اور احمد بیگ کی نسبت جو ایک حصہ پیشگوئی کا تھا وہ نور افشاں میں بھی شائع ہو چکا تھا۔ غرض احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور اس کا فوت ہونا اس کے داماد اور تمام عزیزوں کیلئے سخت ہم و غم کا موجب ہوا چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے توبہ اور رجوع کے خط اور پیغام بھی آئے جیسا کہ ہم نے اشتہار ۶؍ اکتوبر ۱۸۹۴ ؁ء میں جو غلطی سے ۶؍ستمبر ۱۸۹۴ ؁ء لکھا گیا ہے مفصل ذکر کردیا ہے پس اس دوسرے حصہ یعنی احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارے میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈالی گئی جیسا کہ ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ انذار اور تخویف کی پیشگویوں میں یہی سنت اللہ ہے کیونکہ خدا کریم ہے اور وعید کی تاریخ کو توبہ اور رجوع کو دیکھ کر کسی دوسرے وقت پر ڈال دینا کرم ہے اور چونکہ اس ازلی وعدہ کی رو سے یہ تاخیر خدائے کریم کی ایک سنت ٹھہر گئی ہے جو اس کی تمام پاک کتابوں میں موجود ہے اسلئے اس کا نام تخلف وعدہ نہیں بلکہ ایفاء وعدہ ہے کیونکہ سنت اللہ کا وعدہ اس سے پورا ہوتا ہے۔ بلکہ تخلف وعدہ اس صورت میں ہوتا کہ جب سنت اللہ کا عظیم الشان وعدہ ٹال دیا جاتا مگر ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ اس صورت میں خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے۔ منہ نوٹ: احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پروا نہ کی خط پر خط بھیجے گئے ان سے کچھ نہ ڈرا پیغام بھیج کر سمجھایا گیا کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق(باقی اگلے صفحہ پر)