فلیتدبّر فی ہذا المقام کل عاقل حفظہ اللّٰہ تعالی عن الحمق وصانہ عن السفاہۃ وسیر اللئام - لیظہر علیہ حقیقۃُ جہاد الإسلام،
ولینظُرْ أین أثر الظلم فی ہذا الجہاد، وأین إیذاء المحسن ذی الإنعام؟ بل کان رأس الإسلام فی تلک الأیام معرَّضًا لدوس الأقدام، وقد وردت علی المسلمین مصائب إلی حد یُجری الدموع قصّتُہا من المُقْلتین وتشوی
القلوب بنار الآلام۔ فہل مِن مُنصف ینظرہا ویخاف قہر الربّ العلام، أم انعدم الإنصاف من قلوب المخالفین؟ ہذا ہو الحق ولا نخبّء الحق ولا نسترہ، والنفاق عندنا أکبر الذنوب، والریاء أخطر الخطوب، ومِن
سِیَرِ الظالمین المشرکین۔
فخلاصۃ قولنا إن مسألۃ الغزوۃ والجہاد لیست محورَ الإسلام واستقسہ کما فہمہ الجاہلون المخالفون أو المتجاہلون من المسلمین
پس اس مقام میں ہریک عاقل جس کو خدا نے
حمق اور سفاہت اور بدوں کی خصلتوں سے نگاہ رکھا ہو
فکر کرے اور سوچے تاکہ اس پر اسلامی جہاد کی حقیقت ظاہر ہو اور چاہے کہ دیکھے کہ اس جہاد میں ظلم
کا نشان کہاں ہے اور کہاں
کسی محسن کو دکھ دیا گیا ہے بلکہ ان دنوں میں تو اسلام کا سر کچلنے کی جگہ میں
پڑا ہوا تھا اور مسلمانوں پر ایسی مصیبتیں پڑی ہوئی تھیں کہ ان مصیبتوں کا قصہ آنکھوں سے
آنسو جاری کر
دیتا ہے اور دلوں کو درد کی آگ سے بریان کرتا ہے
پس کوئی منصف ہے !!! جو خدا سے ڈرے اور سوچے یا یہ کہ
انصاف مخالفوں کے دلوں سے اٹھ ہی گیا ہے اور یہی بات
حق ہے اور
ہم حق کو پوشیدہ نہیں کرتے اور نہ چھپاتے ہیں اور نفاق ہمارے نزدیک سب گناہوں سے بڑا ہے اور
ریا سب کاموں سے زیادہ خطرناک ہے اور ظالموں اور مشرکوں کی صفات میں سے ہے۔
پس
ہمارے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ دینی لڑائی اور جہاد کا کچھ ایسا مسئلہ نہیں جس کو اسلام کا محور اور
استقس کہا جائے جیسا کہ جاہل مخالف سمجھتے ہیں یا جیسا کہ بناوٹ سے جاہل
بننے والے بعض مسلمان خیال کرتے ہیں