کوئی مفسدانہ بنا ڈالے یا ایسے مجمع میں شریک ہو یا راز دار ہو تو وہ اللہ اور رسول کے حکم کی نافرمانی کر رہا ہے اور جو کچھ اس عاجز نے گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ بننے کے لئے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے وہ سب سچ ہے۔ نادان مولوی نہیں جانتے کہ جہاد کے واسطے شرائط ہیں سکھا شاہی لوٹ مار کا نام جہاد نہیں اور رعیت کو اپنی محافظ گورنمنٹ کے ساتھ کسی طور سے جہاد درست نہیں اللہ تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ ایک گورنمنٹ اپنی ایک رعیت کے جان اور مال اور عزت کی محافظ ہو اور ان کے دین کے لئے بھی پوری پوری آزادی عبادات کے لئے دے رکھی ہو۔لیکن وہ رعیت موقع پا کر اس گورنمنٹ کو قتل کرنے کے لئے تیارہو یہ دین نہیں بلکہ بے دینی ہے اور نیک کام نہیں بلکہ بدمعاشی ہے۔ خداتعالیٰ ان مسلمانوں کی حالت پررحم کرے کہ جو اس مسئلہ کو نہیں سمجھتے اور اس گورنمنٹ کے تحت میں ایک منافقانہ زندگی بسر کر رہے ہیں جو ایمانداری سے بہت بعید ہے ۔ ہم نے سارا قرآن شریف تدبر سے دیکھا مگر نیکی کی جگہ بدی کرنے کی تعلیم کہیں نہیں پائی۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس گورنمنٹ کی قوم مذہب کے بارے میں نہایت غلطی پر ہے وہ اس روشنی کے زمانہ میں ایک انسان کو خدا بنا رہے ہیں اور ایک عاجز مسکین کو رب العالمین کا لقب دے رہے ہیں۔ مگر اس صورت میں تو وہ اور بھی رحم کے لائق اور راہ دکھانے کے محتاج ہیں کیونکہ وہ بالکل صراط مستقیم کو بھول گئے اور دور جا پڑے ہیں۔ ہم کو چاہیئے کہ ان کے احسان یاد کر کے ان کے لئے جنابِ الٰہی میں دعا کریں کہ اے خداوند قادر ذوالجلال ان کو ہدایت بخش اور ان کے دلوں کو پاک توحید کے لئے کھول دے اور سچائی کی طرف پھیر دے۔ تا وہ تیرے سچے اور کامل نبی اور تیری کتاب کو شناخت کر لیں اور دین اسلام ان کا مذہب ہو جائے۔ ہاں پادریوں کے فتنے حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں اور ان کی مذہبی گورنمنٹ ایک بہت شور ڈال رہی ہے مگر ان کے فتنے تلوار کے نہیں ہیں قلم کے فتنے ہیں سو اَے مسلمانوں تم بھی قلم سے اُن کا مقابلہ کرو اور حد سے مت بڑھو۔ خداتعالیٰ کا منشاء قرآن شریف میں صاف پایا جاتا ہے کہ قلم کے مقابل پر قلم ہے اور تلوار کے مقابل پر تلوار۔ مگر کہیں نہیں سنا گیا کہ کسی عیسائی پادری نے دین کے لئے تلوار بھی اٹھائی ہو۔ پھر تلوار کی تدبیریں کرنا قرآن کریم کو چھوڑنا ہے بلکہ صاف بے راہی اور الٰہی ہدایت سے سرکشی ہے ۔ جن میں روحانیت نہیں وہی ایسی تدابیریں کیا کرتے ہیں جو اسلام کا بہانہ کر کے اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ خداتعالیٰ ان کو سمجھ بخشے۔