عامؔ اطلاع کے لئے
ایک اشتہار
وہ تمام صاحب جنہوں نے شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی کے رسائل اشاعت السنہ
دیکھے ہوں گے یا ان کے وعظ سنے ہوں گے یا ان کے خطوط پڑھے ہوں گے وہ اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ شیخ صاحب موصوف نے اس عاجز کی نسبت کیا کچھ کلمات ظاہر فرمائے ہیں اور
کیسے کیسے خودپسندی کے بھرے ہوئے کلمات اور تکبر میں ڈوبے ہوئے ترہات اُن کے منہ سے نکل گئے ہیں کہ ایک طرف تو انہوں نے اس عاجز کو کذاب اور مفتری قرار دیا ہے اور دوسری طرف
بڑے زور اور اصرار سے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ مَیں اعلیٰ درجہ کا مولوی ہوں اور یہ شخص سراسر جاہل اور نادان اور زبانِ عربی سے محروم اور بے نصیب ہے اور شاید اس بکواس سے ان کی
غرض یہ ہو گی کہ تا ان باتوں کا عوام پر اثر پڑے اور ایک طرف تو وہ شیخ بطالوی کو فاضل یگانہ تسلیم کر لیں اور اعلیٰ درجہ کا عربی دان مان لیں اور دوسری طرف مجھے اور میرے دوستوں کو
یقینی طور پر سمجھ لیں کہ یہ لوگ جاہل ہیں اور نتیجہ یہ نکلے کہ جاہلوں کا اعتبار نہیں۔ جو لوگ واقعی مولوی ہیں انہیں کی شہادت قابلِ اعتبار ہے۔ مَیں نے اس بیچارہ کو لاہور کے ایک بڑے جلسہ میں
یہ الہام بھی سنا دیا تھا کہ انی مھین من اراد اھانتک کہ مَیں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کے درپَے ہو۔ مگر تعصب ایسا بڑھا ہوا تھا کہ یہ الہامی آواز اس کے کان تک نہ پہنچ سکی اس نے چاہا
کہ قوم کے دلوں میں یہ بات جم جائے کہ یہ شخص ایک حرف عربی کا نہیں جانتا پر خدا نے اسے دکھلا دیا کہ یہ بات الٹ کر اسی پر پڑی۔ یہ وہی الہام ہے جو کہا گیا تھا کہ مَیں اُسی کو ذلیل کروں گا
جو تیری ذلت کے درپے ہو گا۔ سبحان اللہ کیسے وہ قادر اور غریبوں کا حامی ہے ۔ پھر لوگ ڈرتے نہیں کیا یہ خداتعالیٰ کا نشان نہیں کہ وہی شخص جس کی نسبت کہا گیا تھا کہ جاہل ہے اور
ایک