تباہیک بکتابک وہو أصل تبابک۔ وإنی عرفت سرّک ومعمّاہ، وإن لم یَدْرِ القوم معناہ۔ وما ترید إلا أن تفتتن قلوب السفہاء ، وتخدع
الجہلاء، لتکون لک عزّۃٌ فی الأشقیاء ، وتفوز فی الأہواء ، وہذا خاتمۃ الکلام، فتدبّرْ کالعقلاء ولا تقعد کالعمین۔
ہداک اللّٰہ ہل تُرضی العواما
لکی تستجلِبنْ منہم حُطاما
وہل فی ملّۃ الإسلام أثرٌ
من
الکَلِمِ التی تَبرِی خِصاما
أعندؔ ک حُجّۃٌ إجماعُ قومٍ
أضاعوا الحق جہلا واہتضاما
ومثلک أُمّۃٌ قتلتْ حسینا
إذا وجدتْ کمنفرد إماما
تمّت
مولوی رسل بابا صاحب امرتسری کے رسالہ حیات
المسیح پر ایک اور نظر
اور نیز ہزار روپیہ انعامی جمع کرانے کے لئے درخواست
ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ان دنوں میں مولوی صاحب مندرج العنوان نے ایک کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کی زندگی ثابت کرنے کے لئے لکھی ہے جس کا نام حیات المسیح رکھا ہے۔ لیکن اگر یہ پوچھا جائے کہ انہوں نے باوجود اس قدر محنت اٹھانے اور وقت ضائع کرنے کے ثابت کیا کیا ہے تو ایک منصف
آدمی یہی جواب دے گا کہ کچھ نہیں۔ اگر مولوی صاحب موصوف کی نیت بخیر ہوتی اور ان کے اس کاروبار کی علت غائی حق الامر کی تحقیق ہوتی نہ اور کچھ تو وہ اس رسالہ کے لکھنے سے پہلے
قرآن شریف کی ان آیات بینات کو غور سے پڑھ لیتے جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ایسی صاف طور پر ثابت ہو رہی ہے کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے فوت ہو گئے اور دفن کئے
گئے۔ لیکن افسوس کہ مولوی صاحب موصوف محکم اور بین آیات سے آنکھ بند کر کے گزر گئے اور بعض دوسری آیات میں تحریف کر کے اور اپنی طرف سے اور فقرے ان کے ساتھ ملا کر عوام کو یہ
دکھلانا چاہا کہ گویا ان آیتوں سے حضرت عیسیٰ کی حیات کا پتہ لگتا ہے۔ لیکن اگر مولوی صاحب کی اس مفتر یا نہ کاروائی سے کچھ ثابت ہوتا بھی