جو برکات وغیرہ انوار سے اپنے اندر رکھتا ہے پیش کئے۔ سو اب امید کہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب ہمارے سوال کا منشاء سمجھ گئے ہوں گے تو چاہئے کہ اس منشاء کے مطابق انجیل کی طاقت اور قوت سے ایسے دلائل پیش کئے جائیں نہ اپنی طرف سے اور جو شخص ہم فریقین میں سے اپنی طرف سے کوئی معقولی دلیل یا کوئی دعویٰ پیش کرے گا تو ایسا پیش کرنا اس کا اس بات پر نشان ہوگا کہ اس کی وہ ؔ کتاب کمزور ہے اور وہ طاقت اور قوت اپنے اندر نہیں رکھتی جو کامل کتاب میں ہونی چاہئے۔ لیکن یہ جائز ہوگا کہ اگر کوئی کتاب کسی معقولی دلیل کو اجمالی طور پر پیش کرے مگر ایسے طور سے کہ اس کا پیش کرنا کوئی امر مشتبہ نہ ہو اوراسی کے سیاق سباق اوراسی کے اور دوسرے مقامات سے پتہ مل سکتا ہوکہ اس کا یہی منشاء ہے کہ ایسی دلیل پیش کرے کہ گو وہ دلیل اجمالی ہو مگر ہر ایک فریق کو اختیار ہوگا کہ عوام کے سمجھانے کے لئے کچھ بسط کے ساتھ اس دلیل کے مقدمات بیان کر دیوے لیکن یہ ہرگز جائز نہیں ہوگا کہ اپنی طرف سے کوئی دلیل تراش خراش کر کے الہامی کتاب کی ایسے طور سے مدد دی جائے کہ جیسے ایک کمزور اور بے طاقت انسان کو یا ایک میت کو اپنے بازو اور اپنے ہاتھ کے سہارے چلایا جائے۔ پھر بعد اس کے استقراء کے بارے میں جو مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے جرح کیا ہے وہ جرح بھی قلت تدبر کی وجہ سے ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ قول یعنی دلیل استقراء صحیح سمجھی جائے جو قرآن کریم پیش کرتا ہے تو پھر آدم کا بغیر والدین پیدا ہونا قابل تسلیم نہیں ہوگا اور صفت خالقہ کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ افسوس کہ صاحب موصوف اس بات کے سمجھنے سے غافل رہے کہ دلائل استقرائیہ میں یہی قاعدہ مسلم الثبوت ہے کہ جب تک اس حقیقت ثابت شدہ کے مقابل پر جو بذریعہ دلیل استقرائی کے ثابت ہو چکی ہے کوئی امر اس کا مخالف اور مبائن پیش نہ کیا جائے جس کا ظاہر ہونا بھی بہ پایہ ثبوت پہنچ چکا ہے تب تک دلیل استقرائی ثابت اور برقرار رہے گی مثلاً انسان کا ایک سر ہوتا ہے اور دو آنکھ۔ تو اس کے مقابل پر صرف اس قدر کہنا کافی نہیں ہو گا کہ ممکن ہے کہ دنیا میں ایسے آدمی بھی موجود ہوں جن کے دس سر اور بیس آنکھ ہوں بلکہ ایسا انسان کہیں سے پکڑ کر دکھلا بھی دینا چاہئے۔ اس بات میں فریقین میں سے