اور وہی اس کے ذمّہ ؔ دار ہوئے ۔ اور بعد طے ہونے ان تمام مراتب کے ڈاکٹر صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کی اس تحریر پر دستخط ہوگئے جس میں یہ شرائط بہ تفصیل لکھے گئے تھے اور یہ قرار پایا کہ ۱۵ مئی ۱۸۹۳ء تک فریقین ان شرائط مباحثہ کو شائع کر دیں اور پھر میرے دوست قادیان میں پہنچے اور چونکہ ڈاکٹر صاحب نے اس مباحثہ کا نام جنگ مقدس رکھا ہے اس لئے ان کی خدمت میں بتاریخ ۲۵ ؍اپریل ۱۸۹۳ء کو لکھا گیا کہ وہ شرائط جو میرے دوستوں نے قبول کئے ہیں وہ مجھے بھی قبول ہیں لیکن یہ بات پہلے سے تجویز ہوجانا ضروری ہے کہ اس جنگ مقدس کا فریقین پر اثر کیا ہوگا۔ اور کیونکر کُھلے کُھلے طور پر سمجھا جائیگاکہ درحقیقت فلاں فریق کو شکست آگئی ہے کیونکہ سالہاسال کے تجربہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ معقولی اور منقولی بحثوں میں گو کیسی ہی صفائی سے ایک فریق غالب آجائے مگر دوسرے فریق کے لوگ کبھی قائل نہیں ہوتے کہ وہ درحقیقت مغلوب ہوگئے ہیں بلکہ مباحثات کے شائع کرنے کے وقت اپنی تحریرات پر حاشیئے چڑھا چڑھا کر یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنا ہی غالب رہنا ثابت ہو اور اگر صرف اسی قدر منقولی بحث ہو تو ایک عقلمند پیشگوئی کر سکتا ہے کہ یہ مباحثہ بھی انہیں مباحثات کی مانند ہوگا جو ابتک پادری صاحبوں اور علماء اسلام میں ہوتے رہے ہیں بلکہ اگر غور سے دیکھا ؔ جائے تو ایسے مباحثہ میں کوئی بھی نئی بات معلوم نہیں ہوتی پادری صاحبوں کی طرف سے وُہی معمولی اعتراضات ہوں گے کہ مثلاََ اسلام زور شمشیر سے پھیلا ہے اسلام میں کژت ازدواج کی تعلیم ہے ۔ اسلام کا بہشت ایک جسمانی بہشت ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ایسا ہی ہماری طرف سے بھی وہی معمولی جواب ہونگے کہ اسلام نے تلوار اُٹھانے میں سبقت نہیں کی اور اسلام نے صرف بوقت ضرورت امن قائم کرنے کی حد تک تلوار اُٹھائی ہے اور اسلام نے عورتوں اور بچّوں اور راہبوں کے قتل کرنے کیلئے حکم نہیں دیا بلکہ جنہوں نے سبقت کر کے اسلام پر تلوار کھینچی وہ تلوار سے ہی مارے