احسان اٹھاوؔ ے۔ اس کے ظل حمایت میں بامن و آسایش رہ کر اپنا مقسوم کھاوے اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے۔ اور دعا سے بھی انہوں نے اس گورنمنٹ کو بہت دفعہ