دین اسلام کی آفتاب کی طرح روشن ہوجائے تین قسم کے نشان ثابت کر کے دکھائے ہیں ۔ اوّل ۱ وہ نشان کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے زمانہ میں مخالفین نے خود حضرت ممدوح کے ہاتھ سے اور آنجناب کی دُعا اور توجّہ اور برکت سے ظاہر ہوتے دیکھے جن کو مؤلف یعنی اس خاکسار نے تاریخی طور پر ایک اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے مخصوص و ممتاز کر کے درج کتاب کیا ہے ۔ دوم ۲ وہ نشان کہ جو خود قرآن شریف کی ذات بابرکات میں دائمی اور ابدی اور بے مثل طور پر پائے جاتے ہیں جن کو راقم نے بیان شافی اور کافی سے ہر یک عام و خاص پر کھول دیا ہے اور کسی نوع کا عذر کسی کے لئے باقی نہیں رکھا ۔ سوم۳ و ہ نشان کہ جو کتاب اللہ کی پیروی اور متابعت رسولؐ بر حق سے کسی شخص تابع کو بطور وراثت ملتی ہیں جن کے اثبات میں اس بندۂ درگاہ نے بفضل خداوند حضرت قادرِ مطلق یہ بدیہی ثبوت دکھلایا ہے کہ بہت سے سچّے الہامات اور خوارق اور کرامات اور اخبار غیبیّہ اور اسرار لدنیہ اور کشوف صادقہ اور دعائیں قبول شدہ کہ جو خود اس خادمِ دین سے صادر ہوئی ہیں اور جن کی صداقت پر بہت سے مخالفین مذہب (آریوں وغیرہ سے) بشہادت رویت گواہ ہیں کتاب موصوف میں درج کئے ہیں اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدّد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیحبن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدّت مناسبت و مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء ورسل کے نمونہ پر محض ببرکت متابعت حضرت خیر البشر و افضل الرسل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ان بہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات و سعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بُعد و حرمان ہے یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے جو منجملہ تین۳۰۰ سو جزو کے قریب ۳۷ جزو کے چھپ