معاشرت اور تجارت اور ترقی کاشتکاری غرض ہریک بات میں ہریک قوم پر فائق اور بلند ہو جائیں گی یہی معنے ہیں 33 ۱ کے کیونکہ حَدَب بالتحریک زمین بلند کو کہتے ہیں اور نسل کے معنے ہیں سبقت لے جانا اور دوڑنا۔ یعنی ہر ایک قوم سے ہر ایک بات میں جو شرف اور بلندی کی طرف منسوب ہوسکتی ہے سبقت لے جائیں گے اور یہی بھاری علامت اس آخری قوم کی ہے جس کا نام یاجوج ماجوج ہے اور یہی علامت پادریوں کے اس گروہ ُ پرفتن کی ہے جس کا نام دجال معہود ہے اور چونکہ حدب زمین بلند کو کہتے ہیں اس سے یہ اشارہ ہے کہ تمام زمینی بلندیاں ان کو نصیب ہوں گی مگر آسمانی بلندی سے بے نصیب ہوں گے اور اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ یہی قوم یا جوج و ماجوج باعتبار اپنے ملکی عروج کے یاجوج ماجوج سے موسوم ہے اور اسی قوم میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے ضلالت کے پھیلانے میں اپنی کوششیں انتہا ؔ کو پہنچائی ہیں اور دجال اکبر سے موسوم ہوگئے اور خدا تعالیٰ نے ضلالت کے عروج کے ذکر کے وقت فرمایا کہ اس وقت نفخ صور ہوگا اور تمام فرقے ایک ہی جگہ پر اکٹھے کئے جائیں گے اور بعد ان آیات کے جو جہنم کا ذکر ہے وہ قرآن کریم کے محاورہ کے بموجب الگ بیان ہے کیونکہ قرآن کریم کا یہ عام محاورہ ہے کہ بعض اوقات دنیا کے کسی واقعہ کا ذکر کرتے کرتے کسی مناسبت کی وجہ سے آخرت کا ذکر ساتھ ہی کیاجاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کو غور سے دیکھنے والے اس متواتر محاورہ سے بے خبر نہیں ہیں۔
تیسرا شق ہماری ان مباحث کا یہ تھا کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ وہ مسیح موعود جس کا قرآن اور احادیث میں مختلف پیرایوں میں ذکر ہے وہ یہی عاجز ہے۔ سو میرے خیال میں اس شق کے دلائل لکھنے میں زیادہ طول دینے کی حاجت نہیں اس بات کو ہم نے اس رسالہ میں ثابت کر دیا ہے کہ ایک شخص کا اس امت میں سے مسیح علیہ السلام کے نام پر آنا ضروری ہے۔ کیوں ضروری ہے تین وجہ سے۔
اوّل یہ کہ مماثلت تامہ کاملہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جو آیت33۲ سے مفہوم ہوتی ہے اس بات کو چاہتی ہے۔