اور حقیقی تقویٰ اور دیانت اور قوی ہمدردی اور اتفاق اور سچی خدا ترسی سے وہ بکلی دور جاپڑے تھے اور ان کے علم اور فکر کا مبلغ صرف ظاہری لفاظی اور الفاظ پرستی تک محدود ہوگیا تھا اور نیز اپنی دنیوی حالت میں کمزور اور ذلیل ہوگئے تھے ایسا ہی اُس نبی کے ہمرنگ اور اس زمانہ کے مشابہ ایکُ محدّث اس امت میں بھی ایسے وقت میں پیدا ہونا ضروری ہے کہ جب یہ امت بھی اسی طور پر بگڑ جائے کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودی بگڑے ہوئے تھے اور جب غور سے دیکھا جاتا اور بنظر تحقیق سوچا جاتا ہے تو صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کا اس امت میں بھی کوئی مثیل بوجہ مماثلت تامہ کاملہ سلسلہ خلفاء موسوی و خلفاء محمدی میں پیدا ہونا چاہیئے یہی زمانہ ہے جس میں ہم ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح کا قریباً چودہ سو برس کا فاصلہ تھا اور اب بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت تک چودھویں صدی ہے اور حضرت موسیٰ کی امت چودھویں صدی پر آکر ایسی بگڑ گئی تھی کہ تقویٰ اور دیانت بالکل جاتی رہی تھی اور علماء یہود ناحق کے اختلافات اور نفسانی جھگڑوں میں مصروف تھے اور ان میں بہت کچھ فسق و فجور پھیل گیا تھا اور ان کی دنیوی حالت میں بھی بہت ابتری پیدا ہوگئی تھی ایسا ہی اس زمانہ میں اس امت کا حال ہے اور جو واقعات آنکھوںؔ کے سامنے ہیں وہ صاف شہادت دے رہے ہیں کہ درحقیقت اس امت اوراس امت کے علماء نے اس زمانہ کے یہودیوں کے قدموں پر قدم مارا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے اور نہ صرف اسی بات میں وہ اس وقت کے یہودیوں کے مشابہ ہوگئے ہیں کہ دیانت اور تقویٰ اور روحانیت اور حقیقت شناسی اُن میں باقی نہیں رہے بلکہ دنیوی ادبار بھی ویسا ہی شامل حال ہوگیا ہے کہ جیسا اس زمانہ میں تھا اور جیسا کہ اس وقت یہودیہ ریاستوں کو رومی ملوک نے تباہ کردیا تھا اور 3 ۱؂ کا مصداق ہوگئے تھے اور یہودی اپنے تئیں ضعیف اور بے کس دیکھ کر ایک ایسے مسیح کے منتظر تھے جو بادشاہ ہوکر آوے اور رومیوں پر تلوار چلاوے کیونکہ توریت کے آخر میں یہی وعدہ دیا گیا تھا