حملے کئے اور تمام برکات اور معجزات سے انکار کیا گیا اور مقبول کونا مقبول ٹھہرایا گیا لیکن خداتعالیٰ نے پھر کبھی نظر اٹھا کر اس امت کی طرف نہ دیکھا اور اس کو کبھی اس امت پر رحم نہ آیا اور کبھی اس کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ لوگ بھی تو بنی اسرائیل کی طرح انسان ضعیف البنیان ہیں اور یہودیوں کی طرح ان کے پودے بھی آسمانی آبپاشی کے ہمیشہ محتاج ہیں کیا اس کریم خدا سے ایسا ہوسکتا ہے جس نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے مفاسد کے دور کرنے کے لئے بھیجا تھا کیا ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی امتوں پر تو خدا تعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزارہا رسول اور محدث توریت کی تائید کے لئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کے لئے بھیجے لیکن یہ امت مورد غضب تھی اس لئے اس نے قرآن کریم کو نازل کرکے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا اور حضرت موسیٰ کی نسبت تو صاف فرمایا333 3 3 ۱ یعنی خدا موسیٰ سے ہمکلام ہوا اور اس کی تائید اور تصدیق کے لئے رسول بھیجے جو مبشر اور منذر تھے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت باقی نہ رہے اور نبیوں کا مسلسل گروہ دیکھ کر توریت پر دلی صدق سے ایمان لاویں۔ اور فرمایا333 ۲ یعنی ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور بعض کا تو ہم نے ذکر کیا اور بعض کا ذکر بھی نہیں کیا لیکن دین اسلام کے طالبوں کے لئے وہ انتظام نہ کیا گویا جو رحمت اور عنایت باری حضرت موسیٰ کی قوم پر تھی وہ اس امت پر نہیں ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہمیشہ امتداد زمانہ کے بعد پہلے معجزات اور کرامات قصہ کے رنگ میں ہوجاتے ہیں اور پھر آنے والی نسلیں اپنے گروہ کو ہریک امر خارق عادت سے بے بہرہ دیکھ کر آخر گذشتہ معجزات کی نسبت شک پیدا کرتی ہیں پھر جس حالت میں بنی اسرائیل کے ہزارؔ ہا انبیاء کا نمونہ آنکھوں کے سامنے ہے تو اس سے اور بھی بیدلی اس امت کو پیدا ہوگی اور اپنے تئیں بدقسمت پاکر بنی اسرائیل کو رشک کی نگہہ سے دیکھیں گے یا بدخیالات میں گرفتار ہوکر ان کے قصوں کو بھی صرف افسانجات