تین ہزار ایمان لائے۔ اعمال کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ فقط یہودیوں میں منادی کرتے رہے۔ شاگرد اُن کے تمام جہان میں گئے۔ تاہم یاد رکھئے کہ شاگرد اپنے استادسے بڑھ کر نہیں۔
تم مجھ سے مانگو میں کردوں گا آپ فرماتے ہیں تمہارا کام دعا کرنا ہے ۔ لہٰذا صاف لکھا ہے یہ دعا مانگتے رہے اور خداوند یسوع انجام دیتا رہا اور دے رہا ہے۔
ہشتم۔ آپ کا استفسار ہے آیا ہر زمانہ میں نشانیاں ضرور نہیں۔ ہرگز نہیں۔ ابتدا میں چاہئے لیکن ہمیشہ ابتدا نہیں ہے۔ نشانیاں و معجزہ تعلیم و دین کو کامل کرتے ہیں۔
اور جوشے ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کامل کی گئی اسے ایسی نامکمل نہ بھیجتے کہ دوبارہ کامل کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ آخری نشان خداوند مسیح خود تھے اور یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ جب کوئی نئی تعلیم وارد ہو تو خاص شخص چاہیئے کہ جو پیغام پہنچاوے اور خاص نشانیاں ہوں جس سے اللہ تعالیٰ ثابت کرے کہ یہ میرا مرسلؔ ہے اور یہ تعلیم میری ہے۔ لیکن اب ہزار درجہ ہیں جس سے تحقیقات ہوسکتی ہے یعنی نقلی عقلی تواریخی وغیرہ۔ جہاں کوئی کام عام طور سے ہو سکے وہاں اللہ تعالیٰ خاص طور سے نہیں کرتا ہے۔
یہودیوں کو ان جنگلوں میں جہاں خوراک نہ تھی خوراک آسمانی ملتی رہی۔جس دن ایسے ملک میں پہنچے جہاں سامان دیگر مہیا تھا من بھی دفع ہوگیا۔
معجزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر ہیں کہ یہ بندہ میرا ہے اور یہ تعلیم میری ہے۔
پھر آگے کو نہ خاص بندہ ہوتا ہے نہ خاص مہر ہوتی ہے۔ پر وہ کارخانہ عام طور سے چلایا جاتا ہے چونکہ آپ کے عقیدہ کے موجب محمدؐ صاحب نبی اللہ تھے اور قرآن کو اللہ تعالیٰ جبرئیل کی معرفت ان پر نازل کرتا رہا اور شروع میں حق ہے جو ایسا ہووے۔
لیکن اب محمدؐ صاحب کی امت اس تعلیم و دین کو پھیلاتی ہے نہ کہ محمدؐ صاحب خود۔ اور قرآن بذریعہ چھپائی کے شائع کئے جاتے ہیں نہ کہ بذریعہ فرشتگان کے۔
نہم۔ خداوند مسیح معجزہ دکھانے سے کیوں انکاری ہوئے اس کے حق میں تو آتھم صاحب خلاصتًہ ذکر کرچکے۔ اس وقت بھی انکاری نہ تھے کہتے ہیں نشان تم کو ملے گا یونس نبی کا۔ آپ نے یہ پڑھ کر نہ سنایا