میں وہ سب کچھ دیا گیا جو تم مانگو یہ مہمانی ہے غفور رحیم سے۔
اب دیکھئے اس آیت میں مکالمہ الٰہیہ اور قبولیت اور خدا تعالیٰ کا متولّی اور متکفل ہونا اور اسی دنیا میں بہشتی زندگی کی بنا ڈالنا اور ان کا حامی اور ناصر ہونا بطور نشان کے بیان فرمایا گیا۔
اور پھر اس آیت میں جس کا کل ہم ذکر کرچکے ہیں یعنی یہ کہ ۱ اسی نشانی کی طرف اشارہ ہے کہ سچی نجات کا پانے والا ہمیشہ اچھے پھل لاتا ہے اور آسمانی برکات کے پھل اس کو ہمیشہ ملتے رہتے ہیں اور پھر ایک اور مقام میں فرماتا ہے۲(س ۲ ر ۷) اور جب میرے بندے میرے بارہؔ میں سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں یعنی جب وہ لوگ جو اللہ رسول پر ایمان لائے ہیں یہ پتہ پوچھنا چاہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا عنایات رکھتا ہے جو ہم سے مخصوص ہوں اور غیروں میں نہ پائی جاویں۔ تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں یعنی تم میں اور تمہارے غیروں میں یہ فرق ہے کہ تم میرے مخصوص اور قریب ہو اور دوسرے مہجور اور دور ہیں جب کوئی دعا کرنے والوں میں سے جو تم میں سے دعا کرے دعا کرتے ہیں تو میں اس کا جواب دیتا ہوں یعنی میں اس کا ہمکلام ہو جاتا ہوں اور اس سے باتیں کرتا ہوں اور اس کی دعا کو پایہء قبولیت میں جگہ دیتا ہوں پس چاہیئے کہ قبول کریں حکم میرے کو اور ایمان لاویں تاکہ بھلائی پاویں ایسا ہی اور کئی مقامات میں اللہ جلّ شانہٗ نجات یافتہ لوگوں کے نشان بیان فرماتا ہے اگر وہ تمام لکھے جاویں تو طول ہوجائے گا جیسا کہ ان میں سے ایک یہ بھی آیت ہے ۳ (س۹ ر ۱۸ سورۃ الانفال) کہ اے ایمان والو اگر تم خدا تعالیٰ سے ڈرو تو خدا تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الامتیاز رکھ دے گا۔
اب میں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب سے بادب دریافت کرتا ہوں کہ اگر عیسائی مذہب میں طریق نجات کا کوئی لکھا ہے اور وہ طریق آپ کی نظر میں صحیح اور درست ہے اور اس طریق پر چلنے