راہ میں سونپ دیا۔ یعنی اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقفؔ کر دیا اور اس کی راہ میں لگا دیا۔ اور وہ بعد وقف کرنے اپنی زندگی کے نیک کاموں میں مشغول ہوگیا اور ہر ایک قسم کے اعمال حسنہ بجا لانے لگا پس وہی شخص ہے جس کو اس کا اجر اس کے رب کے پاس سے ملے گا اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ ڈر ہے اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے یعنی وہ پورے اور کامل طور پر نجات پا جائیں گے۔ اس مقام میں اللہ جلّ شانہٗنے عیسائیوں اور یہودیوں کی نسبت فرما دیا کہ جو وہ اپنی اپنی نجات یابی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں اور ان آرزوؤں کی حقیقت جو زندگی کی روح ہے ان میں ہرگز پائی نہیں جاتی بلکہ اصلی اور حقیقی نجات وہ ہے جو اسی دنیا میں اس کی حقیقت نجات یا بندہ کو محسوس ہو جائے اور وہ اس طرح پر ہے کہ نجات یا بندہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق عطا ہوجائے کہ وہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دے۔ اس طرح پر کہ اس کا مرنا اور جینا اور اس کے تمام اعمال خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائیں اور اپنے نفس سے وہ بالکل کھویا جائے اور اس کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو جائے اور پھر نہ صرف دل کے عزم تک یہ بات محدود رہے بلکہ اس کی تمام جوارح اور اس کے تمام قویٰ اور اس کی عقل اور اس کا فکر اور اس کی تمام طاقتیں اسی راہ میں لگ جائیں تب اس کو کہا جائے گا کہ وہ محسن ہے یعنی خدمت گاری کا اور فرمانبرداری کا حق بجا لایا جہاں تک اس کی بشریت سے ہوسکتا تھا سو ایسا شخص نجات یاب ہے۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں اللہ فرماتا ہے(س ۸ سورہ انعام رکوع۷) کہہ نماز میری اور عبادتیں میری اور زندگی میری اور موت میری تمام اس اللہ کے واسطے ہیں جو رب ہے عالموں کا جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی درجہ کے حاصل کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں اول مسلمانوں کا ہوں۔ پھر بعد اس کے اللہ جلّ شانہٗ اس نجات کی علامات اپنی کتاب کریم میں لکھتا ہے کیونکہ گو جو کچھ فرمایا گیا وہ بھی ایک حقیقی ناجی کے لئے مابہ الامتیازہے لیکن چونکہ دنیا کی آنکھیں اس باطنی نجات اور وصول الی اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں اور دنیا پر واصل اور غیر واصل کا امر مشتبہ ہو جاتا ہے اسلئے