وہ ہو تو یہ ہوتی ہو یا نہ ہو۔ وہ نا ہو تو سب کا سب فنا ہو۔ توحید کا علم تو بائبل میں بھی موجود تھا۔ اِلّا اس کلمہ توحید سے نجات کا کیا علاقہ ہے۔ کیا یعقوب حواری کے خط کے دوسرے باب ۱۹ میں یہ بہت ٹھیک اور واجباً نہیں فرمایا گیا کہ تو کہتا ہے کہ خدا ایک ہے۔ شیطان بھی کہتا ہے بلکہ ٹھہراتا بھی ہے۔ توریت کے مضمون کے چار حصہ میں ماسواء امور اثباتیہ کے یعنی شریعت اخلاقی۔ شریعت رسمیاتی۔ شریعت قضاتی اور قصص۔ اب یہ سارے امور ٹے پالوجی کے ہیں یعنی نشانات تصویری کے سے۔ چنانچہ اخلاقی میں احتیاج دکھلایا گیا ہے اور رسمیاتی میں مایحتاج دکھلایا گیا ہے اور قضاتی میں (تھی او کر سے) دکھلائی گئی۔ یعنی وہ سلطنت جو خدائے تعالیٰ بلاواسطہ غیر کے خود کرتا ہے اور قصص جن میں تصویر کے نشانات بھرے ہیں۔ ان مقامات کو اب اس جگہ اگر ہم لکھیں تو بہت طول ہوجاتا ہے ہم اس کے واسطے اپنی کتاب اندرونہ بائبل کوپیش کرتے ہیں کہ جس سے یہ سب حال ظاہرہو جائے گا۔ انجیل میں انہیں نشانات کا صاحب نشان دکھلایا ہے پس یہ متفرق شریعتیں کیونکر ہوئیں۔ البتہ قرآن کی شریعت ان کے سوا ہے جو مخصوص ساتھ قرآن کے ہے اس کا بار ہم پر کچھ نہیں لیکن آپ پر ہے۔ (۴) صداقت محتاج دلیل کی کیونکر ہے کیا وہ خود ہی اپنی مراد پر دال نہیں اس کے واسطے اور تصفیہ آپ کیا چاہتے ہیں کیا وہ آیات جو ہم نے اس فہرست میں پیش کی ہیں ان میں کوئی ناصاف بھی ہے۔ (۵) ہم سے جو استفسار یہ ہے کہ مسیح نے کیا بنایا تھا۔ خدا نے تو زمین و آسمان اور سب چیزیں بنائیں۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ بہ حیثیت انسانیت کے تو اس نے کچھ نہیں بنایا۔ لیکن بحیثیت مظہر اقنوم ثانی کے باب۸۔ امثال و ایک باب یوحنّا میں یوں لکھا ہے جو کچھ بنا ہے اسی کے وسیلہ بنا ہے اور کہ باپ کو کسی نے دیکھا تک نہیں مگر بیٹے نے خلق کرنے کے وسیلہ سے اسے جتلا دیا۔ (۷) ہم نے خداوند مسیح کا ڈرنا نہیں کہا بلکہ ان کا بے جا غصہ فرو کرنا کہا ہے۔ (۸) مسیح نے تعلیم سلف کو پیچیدہ نہیں کیا بلکہ پیچیدہ کو صاف کیا ہے۔ چنانچہ اس نے مظہر اللہ ہوکر وہ صفات ظاہر کیں جو اور طرح سے ظاہر نہ ہو سکتی تھیں۔ جیسا کہ متی ۶۔ ۹ خدا کا باپ ہونا۔ یوحنّا ۳۔۱۶خدا محبت ہے۔ یوحنّا۴۲۴ خدا روح ہے۔ کثرت فی الوحدت توریت میں