نہیں کی گئیں۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ ان سب نے مدار نجات کا المسیح پر رکھا ہے پھر آپ ہی یہ کیونکر فرماتے ہیں کہ مسیح کی صفات اور نبیوں سے بڑھ کر نہیں کی گئیں۔ کس نبی کے بارہ میں بجز مسیح یہ کہا گیا کہ وہ ہمتائے خدا ہے۔ ذکر یا باب ۱۳ - ۷ - وہ یہوا صدقنو جو تخت داؤدی پر آنے والا ہے یرمیاہ باب ۲۳ - ۵و۶و۷۔ وہ خدائے قادر۔ اب ابدیت۔ شاہ سلامت ہے مشیر۔ مصلح جو تخت داؤدی پر ابد تک سلطنت کرے گا۔ یسعیا ۹ - ۶و۷ تتمتاً بقایا دیر وزہ جس میں جناب نے فضیلت کلام انجیل کی پوچھی ہے ملاحظہ فرمایئے یوحنا کے باب۱۲۔ ۴۸ؔ سے ۵۰ تک۔ انجیل وہ کلام ہے کہ جس کے موافق عدالت سب لوگوں کی ہوگی یعنی کل عالم کی۔(باقی آئندہ) دستخط دستخط بحروف انگریزی بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام جواب حضرت مرزا صاحب ۲۴؍ مئی ۹۳ ء ؁ بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کسی قدر کل کے سوالات کا بقیہ رہ گیا تھا۔ اب پہلے اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ استقراء کیا چیز ہے اور استقراء کی کیا تعریف ہے؟ اس کے جواب میں واضح ہو کہ استقراء اس کو کہتے ہیں کہ جزئیات مشہودہ کا جہاں تک ممکن ہے تتبع کرکے باقی جزئیات کا انہیں پر قیاس کردیا جائے۔ یعنی جس قدر جزئیات ہماری نظر کے سامنے ہوں یا تاریخی سلسلہ میں ان کا ثبوت مل سکتا ہو تو جو ایک شان خاص اور ایک حالت خاص قدرتی طور پر وہ رکھتے ہیں اسی پرتمام جزئیات کا اس وقت تک قیاس کرلیں جب تک کہ ان کے مخالف کوئی اور جزئی ثابت ہوکر