شیطاؔ ن کو ہمیشہ کا قرین اور رفیق اس کا ٹھہرا دیا جو اس کے خون میں بھی سرایت کر جاتا ہے اور دل میں داخل ہو کر ظلمت کی نجاست اس میں چھوڑ دیتا ہے مگر نیکی کی طرف بلانے والا کوئی ایسا رفیق مقرر نہ کیا تا وہ بھی دل میں داخل ہوتا اور خون میں سرایت کرتا اور تا میزان کے دونوں پلّے برابر رہتے۔ مگر اب جب کہ قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوگیا کہ جیسے بدی کی دعوت کیلئے خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کاقرین شیطان کو مقرر کر رکھا ہے۔ ایسا ہی دوسری طرف نیکی کی دعوت کرنے کیلئے رُوح القدس کو اس رحیم و کریم نے دائمی قرین انسان کا مقرر کردیا ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ بقا اور لقا کی حالت میں اثر شیطان کا کالعدم ہوجاتا ہے گویا وہ اسلام قبول کر لیتا ہے اور وہ روح القدس کا نور انتہائی درجہ پر چمک اٹھتا ہے تو اُس وقت اس پاک اور اعلیٰ درجہ کی تعلیم پر کون اعتراض
ہمارے مخالف آریہ اور برہمو اور عیسائی اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اس تعلیم کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دانستہ انسان کے پیچھے شیطان کو لگا رکھا ہے گویا اس کو آپ ہی خلق اللہ کا گمراہ کرنا منظور ہے مگر یہ ہمارے شتاب باز مخالفوں کی غلطی ہے ان کو معلوم کرنا چاہئے کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان گمراہ کرنے کیلئے جبر کرسکتا ہے اور نہ یہ تعلیم ہے کہ صرف بدی کی طرف بلانے کیلئے شیطان کو مقرر کر رکھا ہے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ آزمائش اور امتحان کی غرض* سے
نوٹ* اس جگہ آزمائش کے لفظ سے کوئی دھوکا نہ کھاوے کہ خدائے عالم الغیب کو امتحان اور آزمائش کی کیا ضرورت ہے کیونکہ بلاشبہ اس کو کوئی ضرورت نہیں لیکن چونکہ اصل مقصد امتحان سے اظہار حقائق مخفیہ ہوتا ہے اس لئے یہ لفظ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں پایاجاتا ہے وہ امتحان میں اس لئے نہیں ڈالتا کہ اس کو معلوم نہیں بلکہ اس لئے تا شخص زیر امتحان پر اس کی حقیقت ظاہر کرے کہ اس میں یہ فساد یا صلاحیت ہے اور نیز دوسروں پر بھی اس کا جوہر کھول دیوے۔ منہ
قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان کسی پر جبر کر سکتا ہے اور نہ یہ تعلیم کہ صرف شیطان ہی انسان کا رفیق مقرر
کیا گیا ہے جو بدی کے خیالات دل میں ڈالتا ہے بلکہ انسان کو ملہم خیر اور ملہم شر دونوں دئے گئے ہیں۔