کرؔ و اور اس جگہ عکرمہ سے یہ حدیث لکھی ہے کہ ملائکہ ہریک شر سے بچانے کیلئے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور جب تقدیر مبرم نازل ہو تو الگ ہو جاتے ہیں۔ اور پھر مجاہد سے نقل کیا ہے کہ کوئی ایسا انسان نہیں جس کی حفاظت کیلئے دائمی طور پر ایک فرشتہ مقرر نہ ہو۔ پھر ایک اور حدیث عثمان بن عفّان سے لکھی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ بیس۲۰ فرشتے مختلف خدمات کے بجا لانے کیلئے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور دن کو ابلیس اور رات کو ابلیس کے بچے ضرر رسانی کی غرض سے ہر دم گھات میں لگے رہتے ہیں اور پھر امام احمدرحمۃ اللہ علیہ سے یہ حدیث مندرجہ ذیل لکھی ہے۔ حدثنا اسود بن عامر حدثنا سفیان حدثنی منصور عن سالم بن ابی الجعد عن ابیہ عن عبداللّٰہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم ما منکم من احد ا لا و قد وُکِّلَ بہٖ قرینہ من الجن و قرینہ من الملائکۃ قالوا و ایاک یا رسول اللّٰہ قال و ایای ولکن اللّٰہ اعاننی علیہ فلا یأمرنی الا بخیر انفرد باخراجہ مسلم صفحہ ۲۴۴ کیونکہ ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کو بھی نیکی کا خیال روح القدس سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی فاسق اور فاجر اور بدکار بھی سچی خواب دیکھ لیتا ہے اور یہ سب روح القدس کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے مگر وہ تعلق عظیم جو مقدسوں اور مقربوں کے ساتھ ہے اس کے مقابل پر یہ کچھ چیز نہیں گویا کالعدم ہے۔ از انجملہ ایک یہ سوال ہے کہ جس حالت میں روح القدس انسان کو بدیوں سے روکنے کیلئے مقرر ہے تو پھر اس سے گناہ کیوں سرزد ہوتا ہے اور انسان کفر اور فسق اور فجور میں کیوں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کیلئے ابتلا کے طور پر دو۲ روحانی داعی مقرر کر رکھے ہیں۔ ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک داعی شر جس کا نام ابلیس اور احادیث نبویہ سے اس بات کا ثبوت کہ ملائک آمر خیر اور شیاطین آمر شر ضرور انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں اس بات کا جواب کہ اگر روح القدس ہر یک انسان کے ساتھ رہتا ہے تو پھر بنی آدم سے بُرے کام کیوں ہوتے ہیں۔