زندوؔ ں میں سے کاٹ ڈال۔ لیکن اگر میں تیری طرف سے ہوں اور تیرا ہی ہوں تو میری مدد کر۔ جیسا کہ تو ان کی مدد کرتا ہے جو تیری طرف سے آتے ہیں۔ بالآخر میں اس بات کے لکھنے سے بھی نہیں رہ سکتا کہ بٹالوی صاحب کا رئیس المتکبرین ہونا صرف میرا ہی خیال نہیں بلکہ ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا اس پر شہادت دے رہا ہے۔ اور ساتھ ہی لوگ اس بات سے بھی حیران ہیں کہ یہ تکبر کس وجہ سے اور کس بنا پر ہے۔ مثلاً شیطان نے جو تکبر کیا تو اس کی یہ بنا تھی جو وہ اپنے تئیں نجیب الخلقت سمجھتا تھا اور 3 ۱؂ کا دم مار کر حضرت صفی اللہ پر 3 ۲؂ کی نکتہ چینی کرتا تھا۔ پس اگر حضرت بٹالوی صاحب اوروں کی نسبت اپنے تئیں ایک خاص طور سے نجیب الطرفین خیال کرتے ہیں تو اس کا کوئی ثبوت دینا چاہیئے اور کوئی ایک آدھ شہادت پیش کرنی چاہیئے۔ اور اگر تکبر کی بنا کسی نوع کاعلم ہے جو میاں شیخ الکل یا کسی اور سے حاصل کیا ہے تو اس کا بھی ثبوت چاہیئے۔ کیونکہ اب تک ہمیں اس بات کا علم نہیں کہ کونسا علم ان کو حاصل ہے۔ آیا طبیب ہیں یا فلاسفر ہیں یاہئیت دان ہیں یا منطقی یا ادیب۔ یا حقائق اور معارف قرآن میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں یا امام بخاری کی طرح کئی لاکھ حدیث نوک زبان ہے۔ اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں تو پھر بجز شیطانی تکبر کے اور کیا ان کی نسبت ثابت ہوسکتا ہے۔ اب یاد رہے کہ تکبر کو جھوٹ لازم پڑا ہوا ہے بلکہ نہایت پلید جھوٹ وہ ہے جو تکبر کے ساتھ مل کر ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہجلّ شانہٗ متکبر کا سب سے پہلے سر توڑتا ہے سو اسی طرح اب بھی توڑے گا۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ میاں بٹالوی کا یہ شیوہ ہے کہ اپنا تو خاص طور پر مولوی نام رکھا ہے اور دوسروں کا نام جاہل۔ احمق ان پڑھ اور جس پر بڑی مہربانی ہوئی اس کو منشی کر کے پکارا ہے۔ اور ہماری جماعت کا نام جہلاء اور سفہاء کی جماعت نام رکھا ہے۔ اب میاں بٹالوی بتلاویں کہ انہوں نے اپنے تئیں مولوی قرار دینے اور دوسروں کا نام جاہل اور ان پڑھ رکھنے میں سچ بولا ہے یا جھوٹ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں دیکھتا ہوں کہ میاں بٹالوی کی جڑوں میں جھوٹ رچا ہوا ہے اور تکبر کی پلید سرشت نے اور بھی اس جھوٹ کو زہریلا مادہ بنا دیا ہے چونکہ شیطانی نخوت نے اپنا پورا پورا بوجھ ان پر ڈال دیا ہے اس لئے ایک زور کے ساتھ دروغ گوئی کی نجاست ان کے منہ سے بہ رہی ہے۔ پھر اس کے ساتھ وقاحت یہ کہ دوسروں کا نام دروغ گو رکھتے ہیں۔ میں یہ حلفاًکہہ سکتا ہوں کہ اگر میرے مکرم و مخدوم دوست مولوی حکیم نورالدین صاحب بارک اللّٰہ تعالٰی فی مجدہ و علمہ و بقا ۂ