شیخ ؔ محمد حسین بٹالوی کے اس پرچہ کا جواب جو انہوں نے
۹ جنوری ۱۸۹۳ ء کو لکھ کر اپنے پرچہ نمبر ۱ جلد ۱۵ میں شائع کیا
خدا چون بہ بندد دو چشم کسے
نہ بیند و گر مہر تابد بسے
شیخ صاحب بٹالوی نے پھر اس پرچہ کے صفحہ ۲۲ میں اس عاجز پر یہی الزام لگایا ہے کہ دروغ سے آپکی کوئی تحریر خالی نہیں۔ سچ ہے انسان جس وقت بباعث تکبر اور حسد کے پردوں کے نابینا ہوجاتا ہے تو اس وقت اسکو ظلمت ہی ظلمت نظر آتی ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ الزام کچھ نئے نہیں خداتعالیٰ کے نیک بندے جس قدر دنیا میں آئے بدطینتوں نے ان پر یہی الزام لگائے کہ یہ جھوٹے ہیں کذاب ہیں مفتری ہیں شہوت پرست ہیں مال خور ہیں۔ لیکن جب دنیاان دونوں گروہ میں فیصلہ نہ کرسکے تب آخر اس نے جس کی نظر دلوں کے پاتال تک پہنچتی ہے اپنے آسمانی فیصلہ سے روز روشن کی طرح دکھلا دیاکہ کون کذاب اور کون صادق ہے۔ سو اس وقت میں کچھ ضر ور نہیں سمجھتا کہ باربار اپنے صدق کے ثبوت پیش کروں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ جس پر میرا بھروسہ ہے اور جو میری اندرونی حالتوں کوسب سے بہتر جانتاہے وہ آپ فیصلہ کرے گا دیکھنا چاہیئے کہ ایک زمانہ تک ہمارے سید ومولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار نابکار سے کیا کچھ اپنے نام سنے اور ان پر کس قدر بیجا تہمتیں افتراء وغیرہ کی لگائی گئیں۔ لیکن چونکہ وہ سچے تھے اور خدا انکے ساتھ تھا اس لئے آخرکار مخفی نہ رہ سکے اور آسمان نے بڑی قوت کے ساتھ ان نوروں کے ظاہر کرنے کیلئے جوش مارا تو تب سب مکذب ایسے نابود ہوئے اور لپیٹے گئے جیسے کوئی کاغذ کا تختہ لپیٹ دیوے۔ یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقہ بصورت اقوال یا افعال انبیاء سے ظہور میں آتے رہے ہیں کہ جو نادانوں کی نظر میں سخت بیہودہ اور شرمناک کام تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصریوں کے برتن اور پارچات مانگ کرلے جانا اور پھر اپنے تصرف میں لانا اور حضرت مسیح کا کسی فاحشہ کے گھر میں چلے جانا اور اس کا عطر پیش کردہ جو حلال وجہ سے نہیں تھا، استعمال کرنا اور اس کے لگانے سے روک نہ دینا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تین مرتبہ ایسے طور پر کلام کرنا جو بظاہر دروغ گوئی میں داخل تھا پھر اگر کوئی تکبر اور خودستائی کی راہ سے اس بنا پر