صفاؔ ت پر ایمان لا کر اس سے موافقت تامہ ہوگئی اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہمرنگ ہوگیا اور تمام لذّت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہرگئی اور جمیع اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذّذ اور احتظاظ کی کشش سے صادر ہونے لگے تو یہی وہ کیفیت ہے جس کو فلاح اور نجات اور رستگاری سے موسوم کرنا چاہئے اور عالم آخرت میں جو کچھ نجات کے متعلق مشہود و محسوس ہوگا وہ درحقیقت اسی کیفیت راسخہ کے اظلال و آثار ہیں جو اس جہان میں جسمانی طور پر ظاہر ہوجائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع ہوجاتی ہے اور جہنمی عذاب کی جڑھ بھی اسی جہان کی گندی اور کورانہ زیست ہے۔ اب آیات ممدوحہ بالا پر ایک نظر غور ڈالنے سے ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقّق ہوسکتی ہے کہ جب اس کا وجود معہ اپنے تمام باطنی و ظاہری قویٰ کے محض خدا تعالیٰ کیلئے اور اس کی راہ میں وقف ہوجاوے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اسی مُعطی حقیقی کو واپس دی جائیں اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کاملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اور اس کا غضب اور اس کا رحم اور اس کا حلم اور اس کا علم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اس کا آرام اور سرور اور جو کچھ اس کا سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک باعتبار ظاہر و باطن کے ہے یہاں تک کہ اس کی نیّات اور اس کے دل کے خطرات اور اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہوگئے ہیں کہ جیسے ایک شخص کے