نورؔ کو بھی جو رحمت الہٰیہ نے اُس ظلمت کے مٹانے کیلئے تیار کیا ہے پچھلی راتوں کو اٹھو اور
خدا تعالیٰ سے رو رو کر ہدایت چاہو اور ناحق حقّانی سلسلہ کے مٹانے کیلئے بددعائیں مت کرو اور نہ منصوبے سوچو۔ خدا تعالیٰ تمہاری غفلت اور بھول کے ارادوں کی پیروی نہیں کرتا۔ وہ تمہارے دماغوں اور دلوں کی بے وقوفیاں تم پر ظاہر کرے گا اور اپنے بندہ کا مددگار ہوگا اور اس درخت کو کبھی نہیں کاٹے گا جس کو اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے کیا کوئی تم میں سے اپنے اس پودہ کو کاٹ سکتا ہے جس کے پھل لانے کی اس کو توقع ہے پھر وہ جو دانا و بینا اور ارحم الراحمین ہے وہ کیوں اپنے اس پودہ کو کاٹے جس کے پھلوں کے مبارک دنوں کی وہ انتظار کررہا ہے۔ جب کہ تم انسان ہو کر ایسا کام کرنا نہیں چاہتے پھر وہ جو عالم الغیب ہے جو ہر ایک دل کی تہہ تک پہنچا ہوا ہے کیوں ایسا کام کرے گا۔ پس تم خوب یاد رکھو کہ تم اس لڑائی میں اپنے ہی اعضاء پر تلواریں ماررہے ہو سو تم ناحق آگ میں ہاتھ مت ڈالو ایسا نہ ہو کہ وہ آگ بھڑکے اور تمہارے ہاتھ کو بھسم کر ڈالے یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کام انسان کا ہوتا تو بہتیرے اس کے نابود کرنے والے پیدا ہوجاتے اور نیز یہ اس اپنی عمر تک بھی ہرگز نہ پہنچتا جو بارہ برس کی مدت اور بلوغ کی عمر ہے۔ کیا تمہاری نظر میں کبھی کوئی ایسا مفتری گذرا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ پر ایسا افترا کر کے کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہے پھر اس مدت مدید کے سلامتی کو پالیا ہو۔ افسوس کہ تم کچھ بھی نہیں سوچتے اور قرآن کریم کی ان آیتوں کو یاد نہیں کرتے جو خود نبی کریم کی نسبت اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو ایک ذرہ مجھ پر افترا کرتا تو میں تیری رگِ جان کاٹ دیتا۔ پس نبی کریم سے زیادہ تر کون عزیز ہے کہ جو اتنا بڑا افترا کر کے اب تک بچا رہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا مال بھی ہو۔ سو بھائیو نفسانیت سے باز آؤ اور جو باتیں خدائے تعالیٰ کے علم سے