چھوڑؔ دیا ہے۔ ادھر تو اندرونی طور پر یہ آفت ہے جس کا میں نے مجمل طور پر ذکر کیا ہے اور مخالف قوموں کا کیا حال بیان کیا جاوے کہ وہ اعتراضات اور شبہات سے ایسے لدے ہوئے ہیں کہ جیسے ایک درخت کسی پھل سے لدا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے کینے ہمارے زمانہ میں اسلام کی نسبت بہت بڑھ گئے ہیں اور ہر ایک نے اپنی طاقت اور استعداد کے موافق اسلام پر اعتراض کرنے شروع کئے ہیں اگر ہمارے مخالفوں میں سے کوئی شخص علم طبعی میں دخل رکھتا ہے تو وہ اسی طبعیانہ طرز سے اعتراض کرتا ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اسلام علم طبعی کی ثابت شدہ صداقتوں کے مخالف بیان کرتا ہے۔ اور اگر کوئی مخالف طبابت اور ڈاکٹری میں کچھ حصہ رکھتا ہے تو وہ انہیں تحقیقاتوں کو سراسر دھوکہ دہی کی راہ سے اسلام پر اعتراض کرنے کیلئے پیش کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ گویا اسلام ان تجارب مشہودہ محسوسہ کے مخالف بیان کررہا ہے جو نئی تحقیقاتوں کے ذریعہ سے کامل طور پر ثابت ہوچکے ہیں۔ اسی طرح حال کے علم ہیئت پر جس کو کچھ نظر ہے وہ اسی راہ سے تعلیم اسلام پر اپنے اعتراضات وارد کر رہا ہے۔ غرض جہاں تک میں نے دریافت کیا ہے تین ہزار کے قریب اعتراض اسلام اور قرآن کریم کی تعلیم اور ہمارے سیّد و مولیٰ کی نسبت کوتہ بینوں نے کئے ہیں اور اگرچہ بظاہر ان اعتراضات کا ایک طوفان برپا ہونے سے ایک سرسری خیال سے قلق اور غم پیدا ہوتا ہے مگر جب غور سے دیکھا جائے تو یہ اعتراضات اسلام کیلئے مضر نہیں ہیں بلکہ اگر ہم آپ ہی غفلت نہ کریں تو اسلام کے مخفی دقائق و حقائق کے کھلنے کیلئے حکمت خدا وندی نے یہ ایک ذریعہ پیدا کردیا ہے تا ان معارف جدیدہ کی روشنی سے جو اس تقریب سے غور کرنے والوں پر کھلیں گے اور کھل رہے ہیں حق کے طالب ان ہولناک تاریکیوں سے بچ جائیں جو اس زمانہ میں رنگارنگ کے پیرائیوں میں