نہاؔ یت غبی اور بلید اور بہائم اور حیوانات کے قریب قریب ہو جس کو انسانی قویٰ اور حافظہ اور متفکرہ سے نہایت کم حصہ ملا ہو اس لئے وہ قرآنی زبان کے جاننے پر قدرت نہ رکھتا ہو سو ایسا شخص بھی ولایت اور قرب الٰہی کے معزز درجہ سے شرف یاب نہیں ہو سکتا اور ایسے شخص کو ولی جاننے والے بھی وحشیوں اور گدھوں سے کچھ کم نہیں ہوتے کیونکہ وہ بباعث نہایت درجہ کے حمق کے اس درجہ تک نہیں پہنچتے کہ جس شخص کو وہ نعمت عطا نہیں ہوئی جو مدار ایمان ہے پھر دوسری نعمتوں سے وہ کب بہرہ یاب ہو سکتا ہے۔ اور اگر دوسری کرامت اس سے ظاہر بھی ہو تو وہ استدراج ہے نہ کرامت اور ایسا اندھیر تو کسی طور سے نہیں ہو سکتا کہ ولایت کا مدعی انسانی قویٰ کے معمولی درجہ سے بھی گرا ہوا ہو کیونکہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جن کو اپنے انعامات قرب سے مشرف کرتا ہے وہ لوگ انسانی کمالات میں سے بھی ایک وافر حصہ رکھتے ہیں۔ سو یہی حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اس جگہ خدا تعالیٰ نے عربی خط کی طرف اشارہ فرمایا کیونکہ اس کی نظر میں کل ایسے اشخاص جو تقاعد اور تغافل کی راہ سے یا بلادت اور غباوت کی وجہ سے قرآنی زبان اور معانی قرآن سے محروم ہیں اس لائق ہی نہیں ہیں کہ ان کو باعزّت انسان سمجھ کر ان سے خطاب کیا جائے بلکہ انہوں نے اپنی اس دائمی غفلت اور جہالت پسندی سے مہر لگا دی ہے کہ ان کو قرآن کریم سے کچھ تعلق محبت نہیں اور وہ درحقیقت اسلام کی راہ پر قدم نہیں مارتے بلکہ اور راہوں میں بھٹک رہے ہیں اور اگر بفرض محال کسی قسم کا ان کو ذوق بھی حاصل ہے تو ان کی روح اقرار نہیں کر سکتی کہ وہ قرآن کریم کے ذریعہ سے ہے کیونکہ قرآن کریم سے تو ان کو کچھ تعلق ہی نہیں اور نہ اس کی کچھ مزاولت ہے اور نہ ان کی روح یہ اقرار کر سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل محبت سے انہوں نے کوئی مرتبہ طے کیا ہے کیونکہ انہوں نے قرآن کریم سے ہی کامل محبت نہیں کی پھر