اگرؔ چہ میں پہلے بھی کچھ ذکر فقراء زمانہء حال بضمن ذکر علماءِ ہندوستان و پنجاب اس کتاب میں لکھ آیا ہوں لیکن میں نے باتفاق رائے دوست ممدوح کے یہی قرین مصلحت سمجھا کہ ایک مستقل خط ایسے فقراء کی طرف لکھا جائے جو شرع اور دین متین سے دور جا پڑے ہیں اور میرا ارادہ تھا کہ یہ خط اردو میں لکھوں لیکن رات کو بعض اشارات الہامی سے ایسا معلوم ہوا کہ یہ خط عربی میں لکھنا چاہئے اور یہ بھی الہام ہوا کہ ان لوگوں پر اثر بہت کم پڑے گا ہاں اتمام حجت ہوگا اور شاید عربی میں خط لکھنے کی یہ مصلحت ہو کہ جو لوگ فقر اور تصوف کا دعویٰ رکھتے ہیں اور بباعث شدّت حجب غفلت اور عدم تعلقات محبت دین کے انہوں نے قرآن خوانی اور عربی دانی کی طرف توجہ ہی نہیں کی وہ اپنے دعویٰ میں کاذب ہیں اور خطاب کے لائق نہیں کیونکہ اگر ان کو اللہ جلّ شانہٗ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی تو وہ ضرور جدوجہد سے وہ زبان حاصل کرتے جس میں خدا تعالیٰ کا پیارا اور ُ پرحکمت کلام نازل ہوا ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی اُن پر رحمت سے نظر ہوتی تو ضرور ان کو اپنا پاک کلام سمجھنے کے لئے توفیق عطا کرتا اور اگر ان کو قرآن کریم سے سچا تعشق ہوتا تو وہ سجادہ نشینی کی خانقاہوں کو آگ لگاتے اور بیعت کرنے والوں سے بہ ہزار دل بیزار ہو جاتے اور سب سے اول علم قرآن کریم حاصل کرتے اور وہ زبان سیکھتے جس میں قرآن کریم نازل ہوا ہے سو ان کے ناقص الدین اور منافق ہونے کیلئے یہ کافی دلیل ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کی وہ قدر نہیں کی کہ جو کرنی چاہئے تھی اور اس سے وہ محبت نہیں لگائی جو لگانی چاہئے تھی پس ان کا کھوٹ ظاہر ہوگیا دیکھنا چاہئے کہ بہت سے انگریز پادری ایسے ہیں جنہوں نے مخالفت کے جوش سے پچاس پچاس برس کے ہو کر عربی زبان کو سیکھا ہے اور قرآن کریم کے معانی پر اطلاع